مردان: مقامی صحافی پر تشدد انداز میں قتل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مردان میں دو ہفتے پہلے ایک بزرگ کی زیارت پر دو مجاور بھی ہلاک کر دیے گئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پولیس کے مطابق ایک مقامی صحافی کو نامعلوم افراد نے پرتشدد انداز میں ہلاک کیا ہے۔

مردان میں چورہ پولیس تھانے کے انسپکٹر روشن زیب نے بتایا ہے کہ مقامی صحافی بختاج کو دو روز پہلے ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی اور اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہو گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو گاؤں کے قریب ان کی لاش ملی جس کا سر تن سے جدا تھا اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔

بختاج پشاور سے شائع ہونے والے ہفت روزہ منظر عام سے وابستہ تھے اور ساتھ اپنا کاروبار بھی کرتے تھے۔ بختاج کے بھائی مختاج نے بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ بختاج کی عمر اٹھائیس برس تھی اور ان کی شادی کوئی چھ ماہ پہلے ہوئی تھی۔

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

مقامی صحافی محمد ریاض نے بتایا کہ بختاج مردان کے قریب واقعے علاقہ بحشالی کے رہنے والے تھے اور مقامی صطح پر صحافت میں کوئی زیادہ متحرک نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی ہلاکت میں کون ملوث ہے۔

مقامی صحافیوں نے بتایا کہ مردان میں ہفت روزہ منظر عام کم ہی دستیاب ہوتا ہے لیکن مقامی سطح پر موبائل فون پر خبریں بھیجنے یا نیوز میسیجز ضرور کیے جاتے تھے۔

مردان میں دو ہفتے پہلے ایک بزرگ کی زیارت پر دو مجاور بھی ہلاک کر دیے گئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں اس سال یہ پہلے صحافی ہیں جنھیں ہلاک کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں وہ دوسرے صحافی اور میڈیا سے وابستہ پانچویں کارکن ہیں جنھیں اس سال ہلاک کردیا گیا ہے ۔ اس سال اس سے پہلے ہلاک کیے جانے والے صحافی کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقے لاڑکانہ سے بتایا گیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے تین کارکنوں کو چند ہفتے پہلے کراچی میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

گذشتہ سال پاکستان میں دس صحافیوں کو ہلاک کردیا گیا تھا جو کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں صحافیوں کی ہلاکت کی سب سے زیادہ تعداد بتائی گئی ہے ۔ گزشتہ سال بھارت میں آٹھ اور افغانستان میں تین صحافی مارے گئے تھے۔

صحافیوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو فرائص کی انجام دیہی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں