تاریخی سنگ بنیاد: شریف اور زرداری اکھٹےتھر پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر اعظم نے کہا کہ اسی طرح تربیلا توسیعی منصوبے اور جھمپیر پن بجلی منصوبے سے قومی گرڈ میں مزید بجلی شامل ہو گی

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ہمراہ جمعہ کو تھرکول بجلی منصوبے کاسنگ بنیاد رکھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ملک میں ڈیڑھ سال میں گیس کی قلت پرقابو پانے سمیت اجتماعی سیاسی اقدامات سےکم سےکم وقت میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا عزم کیا ہے۔

سندھ کے علاقے تھرپارکر کے قریب تھر کول بلاک ٹو کول مائیننگ اور بجلی کے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ پر تین منصوبوں، بونجی، داسو اور دیامر بھاشا ڈیم سے تقریباً پندہ ہزار میگاواٹ جبکہ کراچی میں ایٹمی بجلی گھر سے دو ہزار دو سو میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اسی طرح تربیلا توسیعی منصوبے اور جھمپیر پن بجلی منصوبے سے قومی گرڈ میں مزید بجلی شامل ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں خوشحالی اور امن پورے ملک کی ترقی ہے۔ انہوں نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عام انتخابات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سندھ کے غریب عوام کا خیال رکھنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ ، بعض وفاقی وزراء اور دوسرے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

افتتاح کے بعد وزیراعظم کو منصوبے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2017 میں مکمل ہونے والے اس منصوبے سے 660 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں کوئلہ نکالا جائےگا جس سے سالانہ بنیادوں پر حاصل ہونے والے 3.8 ملین ٹن کوئلے سے 660 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اس کو مزید توسیع دیتے ہوئے سالانہ 13.5 ٹن سے لے کر 19.5 ملین ٹن تک کوئلہ نکالا جائے گا جس سے کم از کم 2400 سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔

یاد رہے کہ تھر کول میں 175 ارب ٹن سے زائد کے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں اور یہ مقدار سعودی عرب اور ایران کے تیل کے مشترکہ ذخائر سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں