ایک اور بھٹو کا سیاسی جنم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاول بھٹو زرداری حالیہ دنوں ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے کافی متحرک ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی پیدائش سے پہلے ہی ملک کی سیاست میں حصہ لے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب سال 1988 میں بلاول بھٹو زرداری کی والدہ بینظیر بھٹو حاملہ تھیں اور ملک میں مارشل لا کے خاتمے کے بعد انتخابی مہم چلا رہی تھیں۔

ملک کے کچھ سیاستدان بزدل ہیں: بلاول

بلاول کو نیٹ پریکٹس کرنے دیں

بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ کی تصویر دیکھتے ہوئے اس دور کو یاد کرتے ہیں جب ملک میں انتخاب کی تاریخ کو ان کی پیدائش کی تاریخ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ بلاول بھٹو کو وقت سےذرہ پہلے اس دنیا میں آنا پڑا تاکہ ان منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے جن کے مطابق بینظیر بھٹو کو بچے کی ولادت کی وجہ سے انتخابات سے دور رکھنا تھا۔

بلاول کی پیدائش کے چند ماہ بعد ان کی ماں انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وزیر اعظم بن گئی تھیں۔.

اس کے 25 سال بعد بھی بینظیر بھٹو کی سب سے بڑی اولاد کو طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے شدید خطرات کا سامنا ہے اور وہ سخت سکیورٹی اور کڑے پہرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کے ناقدین انھیں’ٹوئٹر کا سیاستدان‘ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک محفوظ دنیا سے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں اپنے خاندانی مکان میں ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کے بیٹے ہیں اور ان پر پوری زندگی نظر رکھی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ان کے خیال میں یہ وقت پارٹی میں زیادہ ذمہ داریاں لینےکا ہے

جس دن انٹرویو کے لیے میری ان سے ملاقات ہوئی اس وقت وہ توانائی سے بھرپور تھے اور سندھی ثقافت کے پروگرام کے انعقاد کے بارے میں پراعتماد تھے اور یہ ان کی ملک کے لیے کچھ کر دکھانے کی ذمہ داری کے احساس کو نمایاں کرتا تھا۔

وہ پرجوش انداز میں وادی سندھ کے آثار قدیمہ موئنجودڑو سمیت ملک کے ثقافتی ورثے کو بچانے کی فوری ضرورت پر بات کرتے ہیں۔

لیکن جب ان سے کہا کہ آثار قدیمہ کے بہت سارے مقامات پیپلزپارٹی کے مضبوط گڑھ میں موجود ہیں اور انھیں بچانے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے تو اس انھوں نے قدرے مشتعل ہو کر کہا کہ ’یہ بالکل درست نہیں ہے، ہم گذشتہ پانچ سال سے وفاقی حکومت میں تھے لیکن وفاقی حکومت سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا عمل ابھی شروع ہوا ہے۔‘

موئنجودڑو کے کھنڈرات میں سندھ فیسٹیول کی تقریب کے انعقاد پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ یہ کھنڈرات پہلے ہی خستہ حالی کا شکار ہیں اور وہاں تقریب کے انعقاد سے ان کی باقیادت کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

بلاول بھٹو زرادری کے خیال میں ثقافتی مہم اپنے طور پر بہت بڑی اور بے خوف قدم ہے اور ان کے خیال میں جو جنگ ہم نہیں لڑ رہے ہیں وہ ثقافت اور معاشرے کے فروغ کے لیے زیادہ گنجائش حاصل کرنے کی ہے اور یہ ہم نے دائیں اور بائیں جانب کے شدت پسندوں کے حوالے کر رکھی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے انٹرویو میں ثقافت کے بارے میں بات کرتے ہوئے شدت پسندی کے مسئلے پر بات کرنا شروع کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاول بھٹو زرداری کے مطابق ان کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں پارٹی میں غور جاری ہے

اسلام آباد میں موجود سیاست دان جب یہ بحث کر رہے ہیں کہ ملک میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے کیا مناسب ترین اقدامات کیے جا سکتے ہیں تو بلال بھٹو زرادری اس مسئلے پر بہت پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔’میرے خیال میں ہم نے بات چیت کے حربے کو استعمال کر لیا ہے لیکن کامیاب مذاکرات کے لیے ہمیں شدت پسندوں کو میدان جنگ میں ہرانا ہو گا۔‘

یہ الفاظ لڑائی پر مبنی ہیں لیکن خطرناک بھی ہیں

جب بہت سارے لوگ انتقامی کارروائی یا کسی اور وجہ سے خاموش ہوگئے ہیں اور بلاول بھٹو اس انداز میں بولنا بعض لوگوں کو اچھا لگ رہا ہے اور ان کی تعریف بھی کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی طالبہ ملالہ یوسفزئی اور کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے آپریشن کرنے اور حال ہی میں طالبان کے حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار چوہدری اسلم کے حوصلے کی کئی بار تعریف کی۔

دوسرے لوگوں کے خیال میں سخت سکیورٹی انتظامات میں بلند دیواروں کے پیچھے کھڑے ہو کر سیاست دانوں کو بزدل قرار دینا بہت آسان ہے لیکن بلاول بھٹو زرداری نے یہ بیان اپنے خاندان کے افسوسناک ماضی کے تناظر میں دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے خطابت کے انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کب تک انتظار کرنا ہو گا؟

’میں نے سوچا تھا کہ میری والدہ کا قتل اس ملک کو جگا دے گا اور کچھ دیر کے لیے ایسا ہوا بھی لیکن پھر دائیں بازو کی قوتوں کی پانی گدلا کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ میری والدہ کا قتل آپ کو نہیں جگا سکا۔‘

بلاول بھٹو زرداری کی مرکزی توجہ اس پر ہے کہ انہیں کس چیز کی پیشکش کرنی چاہیے اور ان کے خیال میں پارٹی میں زیادہ ذمہ داریاں لینے کا یہ وقت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلاول نے اپنے والد آصف علی زرداری کے ساتھ سخت جملوں کے تبادلے کے بارے میں اطلاعات کی تردید کی

انھوں نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور حکومتی پروگرامز پر اپنے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ سخت جملوں کے تبادلے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ہے لیکن اس بارے میں متعدد سوالات پر انھوں نے تسلیم کیا بند کمرا میں بات چیت میں اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی کہ کیا غلط ہوا اور بہتری کے لیے کیا ہو سکتا ہے۔

25 سال کی عمر ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے رکینیت کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں اور اس پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں پارٹی میں تسلسل سے غور و فکر جاری ہے۔ تاہم ان کا مرکزی ہدف سال 2018 کے عام انتخابات ہیں۔

اس سوال پر کیا وہ ایک دن پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہیں گے، بلاول نے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان کا وزیراعظم بننا نہیں: ’میرا مشن اس نظریے کو کامیاب بنانا ہے کہ تمام امن اور ترقی پسند قوتیں متحد ہو کر کام کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ میرا یقین نہیں کریں گی لیکن سب سے اونچی پوزیشن پر میری نظر نہیں ہے۔‘

بلاول بھٹو زردادی کے ساتھ ہمیشہ ان کا ماضی رہے گا لیکن اب وہ یہ جاننے کی کوشش کی رہے ہیں کہ وہ کون ہیں اور پاکستان کیا ہے اور یہ انھیں اپنے مستقبل کے لیے ذہن میں رکھنا ہو گا۔

اسی بارے میں