اجتماعی قبر: آئی جی بلوچستان سپریم کورٹ طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل بھی پشین سے بھی ایسی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بلوچستان کے ضلع خضدار سے اجتماعی قبر سے 13 مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی پر از خود نوٹس لیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے وائس فار بلوچستان مسنگ پرسنز کے چیئرمین کے بیان پر از خود نوٹس لیا ہے۔

اس بیان میں وائس فار بلوچستان مسنگ پرسنز کے چیئرمین نے دعویٰ کیا تھا کہ خضدار کے علاقے توتک سے اجتماعی قبر سے ملنے والی تیرہ مسخ شدہ لاشوں میں سے تین لاشیں ان افراد کی تھیں جو لاپتہ تھے۔

چیف جسٹس نے اس بیان پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے چار فروری کو آئی جی بلوچستان اور خضدار کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا ہے۔

اس سے قبل بلوچستان کی صوبائی حکومت نے خضدار میں اجتماعی قبر سے 13 مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مزکنزئی اس کمیشن کے سربراہ مقرر کیے گیے ہیں۔

پی ٹی وی کے مطابق سنیچر کو بلوچستان کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کر کے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرے گا۔

اجتماعی قبر سے لاشیں ملنے کا واقعہ گذشتہ ہفتے خضدار کے علاقے توتک میں پیش آیا تھا۔

اس علاقے میں جانور چرانے والے چرواہوں نے حکام کو لاشوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی جس پر کارروائی کی گئی۔

ابتدائی طور پر اس جگہ سے دو اور پھر مزید 11 لاشیں برآمد کی گئیں جو سب کی سب ناقابلِ شناخت تھیں۔

حکام کے مطابق جو لاشیں اٹھائی گئیں انھیں قتل کرنے کے بعد ان پر چونا ڈال دیا گیا تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ان افراد کی شناخت کے لیے ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گی۔

ادھر پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے لاشوں کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ مقتولین اور ان کے قاتلوں کی شناخت کو یقینی بنایا جائے اور اس واقعے کے اصل حقائق کو جاننے اور مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔

اسی بارے میں