ایم کیو ایم کا بی بی سی کے خلاف احتجاجی خط

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بی بی سی کی دستاویزی فلم کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اتوار کو نیو ایم اے جناح روڈ پر کارکنوں کا اجتماع ہوگا جس میں الطاف حسین سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا

متحدہ قومی موومنٹ نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے نام بی بی سی کی جانب سے ایک دستاویزی فلم نشر کرنے کے خلاف ایک احتجاجی خط بھیجا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی نے الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف بددیانتی پر مبنی دستاویزی فلم نشر کی ہے جس سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور اراکین پارلیمنٹرین کے وفد نے سنیچر کو کراچی میں متعین برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر جان ٹک ناٹ سے ملاقات کی اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے نام خط ان کے حوالے کیا۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق وفد نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بتایا کہ ایم کیوایم آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے لیکن کسی کے خلاف میڈیا ٹرائل کو زرد صحافت سمجھتی ہے اور اس کے خلاف اپنا جمہوری ، قانونی اور آئینی حق محفوظ رکھتی ہے۔

وفد نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف بی بی سی نے یہ دوسری ڈاکومنٹری فلم نشر کی ہے جس سے نہ صرف بی بی سی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی میڈیا کے اصول اور صحافت کے اصول بھی تنقید کی زد میں آچکے ہیں۔

دوسری جانب بی بی سی کی دستاویزی فلم کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اتوار کو نیو ایم اے جناح روڈ پر کارکنوں کا اجتماع ہوگا جس میں الطاف حسین سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے بارے میں بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کو ’بددیانتی‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے جمعرات 30 جنوری 2014 کو ادارے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں نشر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے کئی بینک اکاونٹ بند کرتے ہوئے ٹیکس نہ دینے کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ متحدہ کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات پہلے ہی زیرِ تفتیش ہیں۔

’نیوز نائٹ‘ کی تازہ رپورٹ میں پہلی مرتبہ بتایا گیا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں دو پاکستانیوں کو بھی شناخت کیاگیا ہے جو مبینہ طور قتل کی واردات کے فوراً بعد اسی شام ہیتھرو ایئرپورٹ سے سری لنکا پرواز کر گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق انھیں سری لنکا سے کراچی پہنچنے پر ہوائی اڈے کے رن وے پرگرفتار کیا گیا تھا۔

نیوز نائٹ کے مطابق پاکستانی حکام سے موصول ہونے والی دستاویزات میں ان دنوں کی شناخت محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران کے ناموں سے کی گئی ہے۔

محسن علی سید فروری 2010 میں پاکستان سے برطانیہ پہنچے تھے اور جنوبی لندن کے علاقے ٹوٹنگ میں قیام پذیر رہے۔ محمد کاشف خان کامران ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی واردات سے کچھ دن قبل لندن پہنچے۔ ٹیلی فون کے ریکارڈ کے مطابق کاشف خان کامران برطانیہ میں قیام کے دوران مسلسل محسن علی سید کے ساتھ رہے۔

یہ دونوں مطلوب افراد لندن پڑھنے کی غرض سے آئے تھے اور انھوں نے مشرقی لندن کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔

اسی بارے میں