بات بالآخر چل نکلی ہے۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیراعظم نواز شریف کے قومی اسمبلی میں خطاب اور چار رکنی کمیٹی کے قیام نے تشدد میں کمی کے اشارے دیے ہیں

مذاکرات کی بات نے جوں ہی کوئی صورت اختیار کرنا شروع کی حالات کچھ اچھے اچھے پرسکون پرسکون دکھائی دینے لگے ہیں۔ ایسا ہے یا نہیں لیکن اس کی خواہش اور چاہت دل میں کب سے ہے تو لہذٰا ’دل مانگے اور‘۔

لیکن خوف یہ بھی ہے کہیں اس تحریر کے شائع ہونے سے قبل ہی اس تاثر کو کہیں نظر نہ لگ جائے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان یا اس کے کسی اتحادی کی جانب سے آخری بڑا حملہ 21 جنوری کو مستونگ، بلوچستان میں ہزارہ زائرین کی بس پر تھا جس میں دو درجن افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد بلوچستان میں مزاحمت کارروں کی کارروائیوں تو زور و شور سے جاری ہیں طالبان قدرے خاموش ہوگئے ہیں۔

کراچی میں ہاں اکا دکا واقعات جاری ہیں۔ وہ بھی ہیں تو طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملے لیکن اس میں شدت کی وجہ چوہدری اسلم کی ہلاکت کے بعد مقامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں تیزی ہے۔

لیکن وزیراعظم نواز شریف کے قومی اسمبلی میں خطاب اور چار رکنی کمیٹی کے قیام نے تشدد میں کمی کے اشارے دیے ہیں۔

لگتا تو یہی ہے کہ ایک مرتبہ پھر عارضی وقفہ ثابت ہوں گے لیکن فی الحال چند دن اگر اس ستائی ہوئی قوم کو آرام کے مل جائیں تو کیا مضائقہ؟

میری طرح اس پوری قوم کی خواہش ہے کہ دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیاں پہلے اجلاس میں اعتماد سازی کا پہلا قدم ’عارضی جنگ بندی‘ ہونا چاہیے پھر اس کی بعد مذاکرات ہونے چاہئیں جو سال ہا سال چلیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مشکل مطالبات ہیں لہٰذا تفصیل سے ٹھنڈے مزاج سے اور آرام سے بات کرنی چاہیے۔

پاکستانی میڈیا کو دیکھ، سن اور پڑھ کر حکومتی کمیٹی کے بارے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ناکامی اس کا مقدر ہے۔

اگر ہم اسی منفریت کے ساتھ آغاز کریں گے تو کسی مثبت پیش رفت یا معجزے کی امید کیسے ممکن ہے۔ سب مانتے ہیں کہ کمیٹی کے اراکین معتبر اور تجربہ کار ہیں، موجودہ حالات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، لہٰذا انھیں کام تو کرنے دیا جائے۔ چار کی جگہ اگر 40 اراکین بھی اس کمیٹی کے رکن ہوتے تو کسی نہ کسی کو پھر بھی کوئی نہ کوئی اعتراض ہونا تھا۔ یہ چار بھی کامیاب ہوں نا ہوں قسمت ہماری۔

حکومتی کمیٹی کی طرح طالبان کمیٹی کو بھی محض مذاکرات کا اختیار دیا گیا ہے فیصلے کرنے کا نہیں۔ تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ان کی سیاسی شوریٰ مذاکراتی کمیٹی کی مکمل رہنمائی اور نگرانی کرے گی یعنی کمیٹی خود کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکتی ہے۔ اسے شوریٰ کی رہنمائی درکار ہوگی جبکہ اسے نگرانی کا بھی سامنا رہے گا۔

طالبان نے اپنے رہنماؤں کی بجائے ملک کے دائیں بازوں کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا سہارا شاید اس لیے بھی لیا کہ حکومت کو مطلوب افراد کو کسی بھی مذاکراتی عمل میں براہ راست آمنے سامنے نہیں بٹھایا جا سکتا ہے۔ نمائندے ہی بات کریں گے۔

اگر میڈیا اور بیرونی عناصر سے کمیٹیاں بچ گئیں تو پھر وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’ہمیں خوف کے سائے میں مذاکرات نہیں کرنے چاہیں لیکن مذاکرات کرنے سے بھی کبھی بھی خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں