’تحفظِ پاکستان بل مارشل لا تو شاید نہ ہو ۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زاہد حامد نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ بل پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں مارچ 2013 کو منظور ہوا تھا

قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نون اور دیگر جماعتوں کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے 1997 کے قانون میں 2013 اور 2014 کی ترامیم اور تحفظِ پاکستان بل پر عجیب وغریب بحث میں دو گھنٹے گزرے۔

اس طویل بحث کو چھیڑا جمعیتِ علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل رحمان نے جنہوں نے طالبان کے ساتھ قیامِ امن کے لیے مذاکراتی عمل سے لا تعلقی کا اظہار کرکے کہا کہ ’تحفظِ پاکستان بل مارشل لا تو شاید نہ ہو، لیکن سول اداروں کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون جمہوری، شہری اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

اس پر قائدِ حزبِ اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے تو دہشت گردی سے متعلق یہ تین بل اسمبلی میں اکثریت کی وجہ سے منظور کروا سکتی ہے ’لیکن قانون سازی کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔‘

اس پر سپیکر سردار ایاز صادق اور وزیرِ قانون زاہد حامد نے واضح کرنے کی کوشش کی کہ صرف شدت پسندی کی سرمایہ کاری کو روکنے کے لیے بل پیش ہو رہا ہے جبکہ دیگر بلوں پر فیصلہ مؤخر ہو رہا ہے۔

زاہد حامد نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ بل پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں مارچ 2013 کو منظور ہوا تھا۔ تاہم بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اعتراضات کی وجہ سے اس کو ٹھیک کر کے دوبارہ سے پیش کیا جا رہا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی بظاہر سننے کے نہیں بیان بازی اور لفاظی کے موڈ میں تھے۔ ’حکومت چاہے تو ان قوانین کو زبردستی منظور کروا سکتی ہے مگر قوانین عوام کی بھلائی کے لیے ہوتے ہیں۔‘ اور پھر ڈرامائی انداز میں انہوں نے کہا کہ ’خدایا ان بلوں کے ذریعے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مت مارو!‘

نواز لیگ کے زاہد حامد نے ایک بار پھر اراکین کو سمجھانے کی کوشش کی کہ متنازع تحفظِ پاکستان بل پر فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے، بحث تو اینٹی منی لانڈرنگ سے متعلق ہونی ہے۔ ’سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہم غیر آئینی بل منظور کروائیں۔‘

ادھر، متحدہ قومی موومنٹ اور جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کو بھی بولنے کا موقع چاہیے تھا اور سپیکر صاحب کو ایوان کے قواعد و ضوابط سمجھانے پڑے۔

جماعتِ اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ان قوانین کے ذریعے ایجنسیوں کو زیادہ اختیارات دیے جائیں گے اور کہا ’پاکستان کو پولیس سٹیٹ مت بناؤ‘۔

پریس گیلری میں موجود صحافی سوال پوچھ رہے تھے کہ اگر ان قوانین میں اتنے نقص ہیں، تو نواز لیگ کو منظور کروانے کی جلدی کیوں تھی؟

اسی بارے میں