’مذاکرات سے امن ہو تو اس سے بہتر کچھ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومت مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ ہے: نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے امن کی بحالی ملک کے لیے بہترین راستہ ہے۔

ادھر طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ فی الحال طالبان نے اپنی شرائط نہیں بتائیں اور مذاکرات کے لیے ٹائم فریم دینا ابھی ممکن نہیں۔

پیر کو لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کا معاملہ تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور وہ ذاتی طور پر مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

’حکومتی کمیٹی تو بااختیار، طالبان کی کمیٹی کتنی بااختیار؟‘

طالبان اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چنیں: عمران

نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور خلوصِ نیت سے معاملات آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق طالبان کی جانب سے نامزد کردہ کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں کمیٹیوں کے ارکان قابلِ قدر ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے اور اب یہ کمیٹیاں آپس میں بیٹھ کر مذاکرات کا عمل آگے بڑھائیں گی۔

نواز شریف نے لاہور ہی میں سینیئر صحافیوں سے بھی ملاقات کی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق اس ملاقات میں انھوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ ہے کیونکہ معیشت کی بحالی کے لیے امن ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہوجائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں۔

پی ٹی وی کے مطابق پیر کو طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کا اجلاس مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں منعقد ہوا ہے جس میں عمران خان اور مفتی کفایت کے علاوہ باقی تینوں ارکان شریک ہوئے ہیں۔

اس اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے حکومتی کمیٹی سے رابطہ کریں گے اور جبھی مذاکرات کا طریقۂ کار اور مقام کا تعین ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال طالبان نے انھیں اپنی شرائط سے آگاہ نہیں کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے ٹائم فریم دینا ممکن نہیں تاہم انھیں جلد از جلد حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

عمران خان کے اس کمیٹی میں شمولیت سے گریز پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پہلے دن سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور اب انھیں اس میں شمولیت کا موقع ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں ابھی عمران خان سے مایوس نہیں ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ وہ بہتر فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ حکومت سے مذاکرات کے لیے طالبان نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنما مفتی کفایت اللہ اور خیبر پختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے امیر پروفیسر ابراہیم کو نامزد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption ذاتی طور پر مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہا ہوں: نواز شریف

کمیٹی کے چار ارکان نے تو طالبان کی نامزدگی قبول کی ہے جبکہ عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان کو اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چننے چاہییں۔

عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس بھی پیر کو منعقد ہو رہا ہے جس میں امن مذاکرت میں تحریکِ انصاف کی جانب سے تعاون کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس میں کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ اور طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار چوہدری نثار علی خان نے اتوار کی شام اپنے بیان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے اعلان کو ایک مثبت پیش رفت تو قرار دیا تھا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ طالبان اپنی کمیٹی کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کی کس حد تک پابندی کریں گے۔

اسی بارے میں