نامکمل لواری سرنگ سے ہزاروں کی زندگی متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ Gul Hammad Farooqi
Image caption 2008 کے آخر تک لواری سرنگ منصوبے کی ٹھیکیدار جنوبی کوریائی کمپنی نے 8.6 کلومیٹر طویل سرنگ کھود دی

جنوری کی ایک منجمد صبح کو شمالی پاکستان کے علاقے چترال میں لواری کی نامکمل سرنگ کے غار نما دہانے کی چھت سے ٹپکتا پانی برفانی قلموں کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

اس دہانے سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر وادی میں مسافر بسیں، ٹرک اور دیگر گاڑیاں سرنگ کھلنے کے منتظر ہیں اور ان کا یہ انتظار طویل ہوتا جا رہا ہے۔

ایسی ہی ایک گاڑی میں ایک معمر خاتون کا جنازہ ہے اور ساڑھے آٹھ کلومیٹر طویل لواری سرنگ کے پار پہاڑی کی دوسری جانب ان کے آبائی گاؤں میں لوگ ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع اور جنازے کے منتظر ہیں۔

اس خاتون کے بیٹے اور پاکستانی فوج کے رکن ولی احمد کے چہرے پر انتظار کی کوفت نمایاں ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ وہ اپنی والدہ کی میّت لے کر وقت پر گاؤں نہیں پہنچ سکیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میری والدہ کا انتقال پشاور میں ہوا۔اب ہمیں ان کی لاش تدفین کے لیے گھر لے جانی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ سرنگ کس وقت کھلے گی اور ہم دن کی روشنی میں گھر پہنچ پائیں گے بھی یا نہیں۔‘

ولی احمد جس مقام پر موجود ہیں وہاں سے ان کے گاؤں گولن کا سفر مزید تین گھنٹے کا ہے۔ اگرچہ ابھی دوپہر ہے لیکن ہندوکش کے یہ پہاڑ شام چار بجے کے بعد سورج کی روشنی چترال اور اس کی 34 ذیلی وادیوں تک نہیں پہنچنے دیتے۔

سات ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع لواری سرنگ موسمِ سرما میں چترال کی پانچ لاکھ آبادی کے لیے اخراج کا واحد راستہ ہے۔

Image caption مریض سرد موسم اور بےآرامی کی اذیت برداشت کرنے پر مجبور ہیں

دیر سے چترال کے درمیان اس پتھریلی اور بل کھاتی پہاڑی سڑک پر ہر چند کلومیٹر بعد درجنوں ٹرک کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

کچھ ڈرائیوروں نے اپنی گاڑیوں کے انجن گرم رکھنے اور پائپوں کو جمنے سے بچانے کے لیے ان کے نیچے چولہے جلا رکھے ہیں۔

چترال کے علاقے دروش سے تعلق رکھنے والے محمد قاسم خان بھی سرنگ کھلنے کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میری بیٹی کا ابھی اپینڈیکس کا آپریشن ہوا ہے اور میرے ایک رشتہ دار کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ میں سلاخ ڈالی گئی ہے۔‘

قاسم کے مطابق ان دونوں کو آرام کی ضرورت ہے لیکن وہ بھی یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ یہ سردی اور انتظار کی اذیت برداشت نہیں کر سکتے، لیکن ہمیں بتایا گیا ہے کہ سرنگ بند ہے۔ ہم پشاور سے آٹھ گھنٹے کے سفر کے بعد یہاں پہنچے ہیں اور اب چھ گھنٹے سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔یہاں نہ خوراک ہے نہ گرمی پہنچانے کا انتظام اور نہ ہی یہاں بیت الخلا ہیں۔‘

سرنگ کی دوسری جانب چترال میں بھی یہی کہانیاں ہیں۔ کوئی مریضوں کو پشاور کے ہسپتال لے جانا چاہتا ہے تو ملازم اور طلبہ کو اپنے کام اور تعلیمی اداروں میں پہنچنے کی جلدی ہے۔ یہی نہیں بلکہ خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے یہ سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ اسلام آباد اور پشاور سے کہیں جہاز انھیں لیے بغیر ہی اڑ نہ جائے۔

چترال کے عوام کی قسمت اس منصوبے سے وابستہ ہے اور یہ تمام افراد جن مسائل کا شکار ہیں ان کی وجہ حکومت کی جانب سے لواری سرنگ پر کام کی ’ری شیڈیولنگ‘ ہے۔

موسمِ گرما میں درۂ لواری میں 10230 فٹ کی بلندی پر برطانوی دور میں بنائی گئی سڑک چترال کو خیبر پختونخوا کے باقی علاقوں سے جوڑتی ہے لیکن یہ راستہ دسمبر کے وسط سے برفباری کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے۔

Image caption 2011 میں جب اس پر کام دوبارہ شروع ہوا تو عوام کے لیے سرنگ کا استعمال تین دن تک محدود کر دیا گیا

وادیِ چترال سے باہر جانے کے دیگر دو راستے جن میں سے ایک اسے افغان صوبہ بدخشاں اور دوسرا گلگت بلتستان سے ملاتا ہے، بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور وہ اس راستے سے پہلے ہی بند ہو جاتے ہیں۔

اس صورتحال میں چترال کا باقی دنیا سے رابطہ صرف ایک راستے کے ذریعے بچتا ہے لیکن وہ پاکستان میں نہیں بلکہ افغان قصبے آراندو میں نکلتا ہے اور وہاں سے پشاور پہنچنے کے لیے کنڑ اور ننگرہار جیسے افغان صوبوں سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ راستہ بھی اب قابلِ استعمال نہیں۔

چترال سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین کے مطابق ’آراندو والا راستہ اس وقت بند ہوا جب پاکستانی فوج نے 2009 میں سوات میں آپریشن کر کے شدت پسندوں کو کنٹر میں دھکیل دیا۔‘

ان کے مطابق امریکیوں کے کنڑ سے اڈے ختم کرنے کے بعد شدت پسند وہاں مضبوط ہوگئے اور 2010 میں انھوں نے کئی چترالی مسافروں کو پکڑا اور ان کے سر قلم کیے۔

لواری سرنگ کا منصوبہ 2005 کے اواخر میں شروع ہوا اور 2008 کے آخر تک اس منصوبے کی ٹھیکیدار جنوبی کوریائی کمپنی نے 8.6 کلومیٹر طویل سرنگ کھود ڈالی۔

ملک میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس منصوبے کے لیے رقم کی فراہمی بھی رک گئی تاہم آنے والے چند برسوں کے دوران یہ نامکمل سرنگ موسمِ سرما میں ٹریفک کے لیے کھلی رہی۔

2011 میں جب اس پر کام دوبارہ شروع ہوا تو عوام کے لیے سرنگ کا استعمال تین دن تک محدود کر دیا گیا لیکن اس سے بھی عوام کو زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔

تاہم جب گذشتہ برس نومبر میں رواں موسمِ سرما کی پہلی برفباری کے بعد چترالی عوام نے سرنگ کا رخ کیا تو وہ یہ جان کر پریشان ہوگئے کہ اب انھیں ایک ہفتے میں تین دن کی بجائے 15 دن میں تین دن سرنگ سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔

اس پابندی سے جہاں سرنگ کے ایک طرف دِیر میں لوگ پھنس کر رہ گئے وہیں چترال میں اشیائے خورد و نوش اور ایندھن کی قلت پیدا ہوگئی۔ اس صورتحال میں حکام نے فیصلہ بدلتے ہوئے سرنگ ہفتے میں دو دن چھ، چھ گھنٹے کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا۔

لواری سرنگ منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر حمید حسین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کی وجہ سرنگ کی تعمیر میں ہونے والی تاخیر ہے: ’اس منصوبے کی لاگت پانچ ارب سے بڑھ کر 18 ارب ہو چکی ہے اور ہمیں فارغ اوقات کے لیے ٹھیکیدار کو جرمانہ دینا پڑتا ہے۔‘

Image caption سرنگ میں مناسب روشنی ہے اور صاف ہوا کی فراہمی اور ہنگامی حالت میں امداد فراہم کرنے کے نظام نہیں

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اس کے علاوہ چھ گھنٹے ٹریفک کی بہتات سے سرنگ میں کاربن کی مقدار بڑھ کر انسانی برداشت سے باہر ہو جاتی ہے۔ ہمیں اسے کارکنوں کے لیے محفوظ بنانے کی خاطر چار سے پانچ گھنٹے خالی رکھنا پڑتا ہے تاکہ وہ بحفاظت وہاں جا کر کام کر سکیں۔‘

اور ابھی سرنگ میں خاصا کام باقی ہے۔

اس وقت سرنگ میں نہ تو مناسب روشنی ہے اور نہ ہی صاف ہوا کی فراہمی اور ہنگامی حالت میں امداد فراہم کرنے کے نظام ہیں۔

سرنگ کے فرش پر جا بجا پتھروں کے ڈھیر لگے ہیں جس سے نہ صرف سرنگ کے اندر ٹریفک جام رہتی ہے بلکہ دوران سفر مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حمید حسین کے مطابق انھوں نے گذشتہ ہفتے ہی سرنگ کے اندر خراب ہونے والے ایک ٹرک کے مسافروں کو جب باہر نکالا تو وہ بےہوش ہو چکے تھے لیکن چترال کے عوام ان سب مشکلات کے باوجود یہ راستہ اپنانے پر مجبور ہیں۔

اب اس سرنگ کی تکمیل کی نئی ڈیڈ لائن 2017 ہے اور اس وقت تک جب بھی برف اس درّے کو بند کرے گی تو کئی جنازوں میں تاخیر ہوگی، کئی لوگوں کا کریئر تباہ ہوگا اور چترال کے کئی باشندے احتجاج کرتے رہیں گے۔

اسی بارے میں