دوہری شہریت والے ججوں کے نام بتائے جائیں: سینیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت معلومات تک رسائی ہر شہری کا بینادی حق ہے

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی دوہری شہریت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

سینیٹ نے حکومت سے کہا کہ آئندہ دو ماہ میں قرارداد پر عمل دارآمد یقینی بنایا جائے۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین نیئر بخاری کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں پپیلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دوہری شہریت کے حامل اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نام شائع کرنے کے حوالے سے ایک قرار داد ایوان میں پیش کی۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ پچھلی حکومت کے دروان بھی کئی بار اراکین نے ججوں کی شہریت کے بارے سوالات کیے ہیں لیکن اعلی عدلیہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

راجہ ظفر الحق نے ایوان کو بتایا کہ وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ اور چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس کے رجسٹرار کو معلومات فراہم کرنے کے لیے لکھا گیا لیکن بلوچستان ہائیکورٹ کے علاوہ کہیں اور سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی فراہم کی گئی معلومات کے مطابق کسی بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئی بھی جج دوہری شہریت کا حامل نہیں ہے۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ سپریم کورٹ اور تینوں ہائی کورٹس نے اپنے جواب میں کہا کہ آئین و قانون کے تحت ججوں پر دوہری شہریت کی پابندی نہیں ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹس خودمختار ہیں اور وہ وزارت قانون و انصاف کے طابع نہیں ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت معلومات تک رسائی ہر شہری کا بینادی حق ہے اور حکومت اس پر عملدارآمد کروانے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی شہریت خفیہ معلومات نہیں ہیں۔ اس لیے فوری طور پر یہ معلومات ایوان میں پیش کی جائیں۔

تمام اراکین کے یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے جبکہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ قرارداد پر آئندہ دو ماہ میں عملدارآمد یقینی بنایا جائے۔

چیئرمین سینیٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ دو ماہ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی دوہری شہریت سے متعلق معلومات فراہم کر کے ایوان میں پیش کرے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کی قراد داد بھی پیش کی جیسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

قومی اسمبلی میں کارروائی

قومی اسمبلی میں پیر کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں آج دو ترامیم اور تحفظ پاکستان بل پر بحث ہوئی۔

ہماری نامہ نگار عنبر شمسی نے بتایا کہ ان ترامیم اور بل کے پیش ہونے پر حکومت میں شامل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ تمام جماعتوں نے اس کی مخلافت کی۔

جماعتوں کی جانب سے مخالفت پر ان ترامیم اور بل کو موخر کردیا گیا۔

تحفظ پاکستان بل کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگرچہ وہ حکومت کا حصہ ہیں لیکن یہ بل انسانی قوانین کے منافی ہے اور اس میں سول اداروں کو کوئی اختیار نہیں ہو گا اسی لیے مجموعی طور پر اس بل کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ قانون سازی کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور اگر حکومت قومی اسمبلی میں منظور کر بھی لیتی ہے تو سینیٹ میں اس کی اکثریت نہیں ہے۔ ’بہتر ہے کہ سوچ سمجھ کر بل پیش کیا جائے۔‘

اس پر وزیر قانون زاہد حامد نے واضح کیا کہ انسداد منی لانڈرنگ بل میں جو ترامیم تجویز کی گئی ہیں وہ بین الاقوامی برادری کی نشاندہی پر کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ بل 2013 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے منظور کیا تھا جن میں نقائص کی نشاندہی عالمی برادری نے کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اگر یہ نقائص دور نہ کیے گئے تو شدت پسند تنظیموں کو فنڈ اکٹھے کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

اسی بارے میں