اجتماعی قبریں: لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این ٹیسٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مزکان زئی کو اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے

بلوچستان کی حکومت نے کہا ہے کہ خضدار میں اجتماعی قبروں سے برآمد ہونے والی لاشوں کی وجہِ ہلاکت اور شناخت جاننے کے لیے ان کے ڈی این اے کے نمونے لے لیے گئے ہیں جس کی ابتدائی رپورٹ چھ فروری کو متوقع ہے۔

یہ بات بلوچستان حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اجتماعی قبروں کے معاملے کی منگل کو از خود نوٹس مقدمے کی سماعت کے دوران جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی صوبائی حکومت نے اجتماعی قبروں سے برآمد شدہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم، ان کی وجہِ ہلاکت اور شناخت معلوم کرنے کے لیے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا ہے۔ بورڈ نے ضروری نمونے لے کر اسے لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

خصدار کے ڈپٹی کشمنر وحید شاہ نے عدالت کو بتایا کہ رابطہ کرنے والے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ڈی این اے کے نمونے بھی ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی ابتدائی رپورٹ چھ فروری تک آ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق توتک کے علاقے میں ایک چرواہے نے حکام کو لاشوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی جس پر کارروائی کی گئی اور پانچ لاشیں ایک جگہ سے برآمد ہوئیں جبکہ چھ لاشیں تین مختلف قبروں سے برآمد کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق دو لاشوں کی شناخت ضلع آواران کے رہائشیوں قادر بخش ولد بیان اور نصیر احمد ولد بیان کے ناموں سے ہو چکی ہے اور جنھیں قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس نے وائس فار بلوچستان مسنگ پرسنز کے چیئرمین کے بیان پر اس واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مزکان زئی کو اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

عدالت میں سیکریٹری داخلہ بلوچستان کے بیان کے مطابق کمیشن ایک ماہ میں اس واقعے کی تحقیقات مکلمل کرے گا۔

اجتماعی قبر سے لاشیں ملنے کا واقعہ گذشتہ ہفتے خضدار کے علاقے توتک میں پیش آیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس جگہ سے دو اور پھر مزید 11 لاشیں برآمد کی گئیں جو سب کی سب ناقابلِ شناخت تھیں۔

حکام کے مطابق جو لاشیں اٹھائی گئیں انھیں قتل کرنے کے بعد ان پر چونا ڈال دیا گیا تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

اسی بارے میں