پرویز مشرف پھر سپریم کورٹ پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرویز مشرف اس وقت اے ایف آئی سی میں زیرِ علاج ہیں

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی طرف سے اُن کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت نے ضابطہ فوجداری کے تحت قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کے اختیارات سے تجاوز کیا ہے جبکہ اس ضمن میں خصوصی عدالت کی تشکیل اور اُس کے دائرۂ سماعت کے اختیار کو پہلے ہی سے چیلنج کیا ہوا ہے اور ابھی تک یہ درخواستیں خصوصی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں جن پر ابھی تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

پرویز مشرف کے وارنٹ جاری

یاد رہے کہ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے 31 جنوری کو سابق فوجی صدر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اُنھیں غداری کے مقدمے کی آئندہ سماعت یعنی سات فروری کو اصالتاً عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے پیر کے روز اس عدالتی حکم کی تعمیل بھی کروائی ہے۔

پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل خالد رانجھا نے بی بی سی کو بتایا کہ خصوصی عدالت 1976 کے خصوصی ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور اس کو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کے تحت خصوصی عدالت کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا اس اختیار کو خود کو تفویض کرنے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کسی بھی فوجی افسر کے اقدام کے خلاف کارروائی فوجی عدالت میں ہی ہوسکتی ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت نے غداری کے مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے اور اُن کے موکل کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی ان درخواستوں کی سماعت جلد از جلد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ایک سوا ل کے جواب میں ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ اگر سات فروری تک سپریم کورٹ میں ان درخواستوں پر ریلیف نہ ملا تو سات فروی کو خصوصی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ اُسی وقت ہی کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بطور احتجاج کیےگئے ہیں۔

اسی بارے میں