’ایک بڑی وضاحت ہو گئی، مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طالبان کی مذاکراتی وفد کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شرکت کی اور نہ ہی جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنما مفتی کفایت اللہ نے

حکومتِ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے مطابق طالبان کی تین رکنی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت ہو سکتی ہے اور انھیں پیغام بھیج دیا ہے کہ ہم ان سے ملنے کو تیار ہیں۔

اس سے پہلے حکومی کمیٹی کے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے ساتھ منگل کو ہونے والے مذاکرات ملتوی ہوگئے ہیں۔

کیا مذاکرات کے آغاز پر ہی ایک برا شگون؟

چار رکنی حکومتی کمیٹی کے رکن اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ ایک سے دو روز میں حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات ہو جائے گی۔

’ایک بڑی وضاحت ہو گئی ہے اور ممکن ہے کہ طالبان سے جو دیگر وضاحتیں طلب کر رہے ہیں وہ بھی دے دی جائیں گی۔‘

طالبان قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے رحیم اللہ یو سف زئی نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کی خواہش ہے کہ ان کے قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی فیصلہ کرنا ہے تو ہمیں جلدی کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کے عوام کی مصیبتیں دور ہوں۔

’اگر مذاکرات میں کوئی تعطل پیدا ہوتا ہے تو وہ سب کے لیے نقصان دہ ہوگا اور اگر پیش رفت نہیں ہو گی تو ظاہر ہے ایسی صورت میں مذاکرات لمبے عرصے تک نہیں چلیں گے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حکومتی مذاکراتی کمیٹی طالبان سے مطالبہ کرے گی کہ وہ مذاکرات کا عمل شروع ہونے کے ساتھ اپنی کارروائیاں روک دیں؟

اس پر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ترجیح ہو گی کہ طالبان اپنی کارروائیاں بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے وضاحت طلب کی ہے کہ کیا وہ ہمیں اس طرح کی یقین دہانی دے سکتے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ان کے اتحادی اور ذیلی تنظیمیں حملے روک دیں گی؟

’جب مذاکرات ہوں گے اور اگر طالبان نے اپنی کارروائیاں روک دیں اور حکومت کی جانب سے جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی تو پھر اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں طالبان کا موقف بھی سامنے آ جائے گا کہ کیا تحریک طالبان ان حملوں کی مذمت کرتی ہے کیا ان کو روکنے کی کوشش کرتی ہے یا کیا ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے؟‘

منگل کا اجلاس ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مذاکرات سے قبل ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ طالبان کی نو رکنی نگران کمیٹی کس طرح کام کرے گی: رحیم اللہ یوسفزئی

حکومت کی کمیٹی منگل کے اجلاس کو یہ کہہ کے ملتوی کر دیا کہ اسے طالبان سے کچھ وضاحتیں درکا ہیں جن کے بعد ہی مذاکرات فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سرکردہ رکن سمیع الحق نے اسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طے شدہ ملاقات ملتوی ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ذمہ دار حکومت ہے۔ سمیع الحق کا کہنا تھا: ’افسوس ہے کہ حکومت اب سنجیدگی سے کام نہیں لے رہی۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’حکومتی نا اہلی کے باوجود وہ اب بھی حکومتی کمیٹی سے ملنے کو تیار ہیں۔ سمیع الحق کا کہنا تھا کہ طالبان کی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے لیکن ’حکومت کی کمیٹی صد فی صد بے اختیار ہے۔‘

ادھر مقامی میڈیا کے مطابق حکومتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کی کمیٹی سے آج ہی ملاقات کی جائے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا بلکہ طالبان سے کمیٹی کے بارے میں کچھ وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام نے طالبان کے وفد کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے

مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس منگل کو وزیرِاعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ طالبان کی کمیٹی سے کچھ وضاحتیں مطلوب ہیں جن کے بعد ہی مذاکراتی عمل فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی جاننا چاہتی ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کی جانب سے انکار کے بعد طالبان کسی اور کو بطور رکن نامزد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے قبل ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ طالبان کی نو رکنی نگران کمیٹی کس طرح کام کرے گی، طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان کی نگران کمیٹی کے درمیان کیا روابط ہوں گے اور کیا طالبان کی نگران کمیٹی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی سے بات کرے گی یا نہیں۔

رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ حکومتی کی مذاکراتی کمیٹی نے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ ’طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کتنی بااختیار ہے، اس کے پاس کیا مینڈیٹ ہےاور کیا یہ بڑے فیصلے کر سکتی ہے؟‘

اسی بارے میں