سہ رکنی کمیٹی پر مکمل اعتماد ہے: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس وقت قبائلی علاقوں میں کوئی ایسا علاقہ نھیں جو مکمل طور پر ہماری عملداری میں ہو: طالبان ترجمان

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ انھیں حکومت سے مذاکرات کے لیے اپنی تین رکنی مذاکراتی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے۔

انھوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں طالبان کی سیاسی شوریٰ کی 9 رکنی نگران کمیٹی کے بارے میں جو تفصیلات دی جا رہی ہیں وہ درست نہیں اور ہم شوری ممبران کی تعداد نہیں بتانا چاہتے تاہم اس کے امیر قاری شکیل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ پاکستان میں ہی ہیں اور مذاکراتی عمل ان کی نگرانی میں ہوگا۔

شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ طالبان نے کسی رکن کو اس لیے مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں کیا کیونکہ ہمیں ان پراعتماد نہیں اور حکومت نے پہلے بھی ہمارے مذاکرات کاروں کو دھوکے سے حراست میں لیا۔

’اگر ہم اپنے آدمیوں کو شامل کریں گے تو وہ اسلام آباد جائیں گے اس سے پہلے انھوں نے مسلم خان کو اور مولوی بشیر کو پکڑا تھا جو ان سے مذاکرات کرنے گئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا ہم اپنی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ملاقات کریں گے لیکن اس سے قبل ہم اپنے مطالبات میڈیا کے سامنے نھیں رکھنا چاہتے اور جو بھی کہا جائے گا مذاکرات کی میز پر کیا جائے گا۔

انھوں نے تردید کی کہ ان کی تنظیم کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم تحریک کے ترجمان نے قیدیوں کی اصل تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کی بات تو ہو رہی ہے لیکن دوسری جانب حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔گذشتہ روز بھی سیکیورٹی فورسز پر تین حملے کیے گئے؟ اس سوال کے جواب میں شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ جب تک جنگ بندی نہیں ہوگی تب تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

’مذاکرات ہوں گے تو ان میں جنگ بندی کی بات ہوگی۔ اس وقت ہمارے خلاف صرف قبائلی علاقوں میں آپریشن نہیں ہو رہے بلکہ یہ کارروائیاں کراچی سے خیبر تک ہو رہی ہیں۔‘

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا کہ وقت ہم دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں اس وقت قبائلی علاقوں میں کوئی ایسا علاقہ نہیں جو مکمل طور پر ہماری عملداری میں ہو۔