کراچی: ریلوے ٹریک پر بم دھماکہ، ایک بچی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ سال بھی شہر جیکب آباد کے قریب خوشحال خان ایکسپریس ٹرین دھماکے کی زد میں آنے سے دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے قریب پاکستان ریلوے کی ٹرین شالیمار ایکسپریس دوم کے ٹریک پر دھماکے سے ٹرین کی آٹھ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں ہیں۔ اس حادثے میں چھ ماہ کی ایک بچی ہلاک اور سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ کراچی کے لانڈھی ریلوے سٹیشن کے قریب پیش آیا ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بتایا ہے کہ مقامی میڈیا میں آنے والی یہ اطلاعات غلط ہیں کہ ٹرین میں ابھی تک مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مسافروں کو کراچی منتقل کیا جا چکا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ڈویژنل کمرشل آفسر شعیب عادل نے بتایا کہ متاثرہ مسافروں کو لاہور لے جانے کے لیے خصوصی ٹرین تیار ہے جبکہ لانڈھی اور کینٹ سٹیشنز سے فرید ایکسپریس کو بحال کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ ریلوے کے مطابق امدادی ٹرین موقعے پر پہنچ چکی ہے اور ٹریک کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وفاقی وزیر نے بتایا کہ متاثرہ مسافروں کے لیے کھانے پینے اور دیگر انتظامات کیے گئے ہیں

خواجہ سعد رفیق نے اس سے پہلے کہا تھا کہ متاثرہ مسافر تین دن تک پرانے ٹکٹوں پر سفر کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہے کہ ٹکٹوں کی واپسی کے لیے بھی کاؤنٹر بنا دیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مسافروں کے لیے کھانے پینے اور دیگر ضروریات فراہم کرنے کے سلسلے میں ریلوے حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ریڈیو پاکستان نے ریلوے ٹریفک کنٹرول ک حوالے سے بتایا کہ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کرنے کے علاوہ ریلوے ٹریفک بحال کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں ہیں۔

خیال رہے کہ صوبہ سندھ میں ریل کی پٹری کو کم شدت کے بم دھماکوں میں نشانہ بنانے کے واقعات کئی بار پیش آ چکے ہیں۔

گذشتہ سال بھی شہر جیکب آباد کے قریب خوشحال خان ایکسپریس ٹرین دھماکے کی زد میں آنے سے دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں