طالبان کا پشاور دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار

شاہد اللہ شاہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شاہد اللہ شاہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں کو ان کی تنظیم سے منسوب نہ کیا جائے

پشاور میں منگل کی رات خود کش دھماکہ کرنے والے نوجوان کا خاکہ پولیس نے جاری کر دیا ہے جبکہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں پشاور میں ہونے والے حالیہ دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

پشاور کے سپرنٹینڈنٹ پولیس فیصل مختیار کے مطابق خود کش حملہ آور کی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور کی عمر 18 سے 20 سال تھی اور وہ چہرے کے خدوخال سے قبائلی علاقے کا نظر آتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوچہ رسالدار میں چوکیدار موجود تھا اور حملہ آور اس وقت کوچے میں داخل ہوا جب چوکیدار دوسری جانب دیکھ رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قصہ خوانی بازار کے کوچہ رسالدار میں امام بارگاہ کے سامنے ہونے والے دھماکے میں نو افراد ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے تھے

ایس پی سٹی کے مطابق شیعہ برداری پر حملوں کا خطرہ تھا اور اس بارے میں ان کے قائدین کو آگاہ کیا گیا تھا۔

قصہ خوانی بازار میں منگل کے روز کوچہ رسالدار میں امام بارگاہ کے سامنے ہونے والے دھماکے میں نو افراد ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے تھے۔ چار زخمیوں کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ہلاک اور زخمیوں میں بیشتر کا تعلق پاڑہ چنار سے بتایا گیا ہے جن میں بیشتر شیعہ رہنما علی اصغر قزلباش کے جنازے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

علی اصغر کو منگل کی صبح قصہ خوانی بازار میں ہی نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ ان کا پشاور میں ہونے والے حالیہ دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جند اللہ نامی تنظیم ان کی ذیلی تنظیم نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے حملوں کو ان کی تنظیم سے منسوب نہ کیا جائے۔

پاکستان میں ایک طرف مذاکرات کی حوالے سے بات چیت جاری ہے تو دوسری جانب پشاور میں چند روز سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سینیما میں دو دھماکوں کے بعد شیعہ رہنما کی ٹارگٹ کلنگ میں ہلاکت اور پھر امام بارگاہ کے سامنے خود کش دھماکے بہت سارے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے تانے بانے مذاکرات سے جڑے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی پالیسی بھی اب تک واضح نہیں ہے کیونکہ ماضی میں بھی کبھی مذاکرات کو تکمیل تک نہیں پہنچایا تو کہیں مکمل آپریشن نہیں ہو سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آپریشنز کے نتیجے میں شدت پسند اپنے علاقوں تک محدود رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات اس صورت میں ہو سکتے ہیں جب ’حکومتی ارکان پر مشتمل کمیٹی طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کرے اور اگر پھر بھی کامیابی نہ ہو تو آپریشن ہونا چاہیے۔‘

ان دھماکوں کے بعد پشاور میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے شہر میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں