سندھ: ’صنفی برابری اور خوشگوار تعلقات‘ کی تعلیم

Image caption تین جلدوں پر مشتمل کتاب میں حقوق، بلوغت اور جنسی طور پر ہراساں ہونے سے محفوظ رہنے کے طریقے شامل ہیں

چاروں طرف سرسبز کھیتوں میں گھرے ہوئے دو منزلہ مڈل سکول میں درس و تدریس کا عمل جاری ہے۔ ساتویں جماعت کی طالبات کو استانی ایک کتاب سے کچھ سمجھا رہی ہیں جو ان کے نصاب کا تو نہیں لیکن زندگی کا اہم حصہ ضرور ہے۔

12 سے 14 سال کی عمر کی یہ دیہی طالبات غور سے لیکچر کو سن رہی ہیں۔ استانی انہیں بتا رہی ہے کہ جنس سے مراد جانداروں کے مابین پائے جانے والا حیاتیاتی جسمانی فرق ہے جو قدرت نے انہیں بطور نر یا مادہ عطا کیا ہے انسانوں میں ہم جنس نر اور مادہ کو مرد اور عورت کی حیثیت سے شناخت کرتے ہیں۔

کراچی سے تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر دور سندھ کے قصبے جوہی کے آٹھ اسکولوں میں’حقوق سے آگاہی، صنفی برابری اور خوشگوار تعلقات‘ کے عنوان سے تعلیم دی جارہی ہے جو تین جلدوں پر مشتمل ہے جن میں انسانی حقوق، بلوغت کے باعث جسم میں ہونے والی تبدیلیوں، صنفی برابری اور جنسی طور پر ہراساں ہونے سے محفوظ رہنے کے طریقے شامل ہیں۔

یہ تعلیم چوتھی سے آٹھویں جماعت تک ہے۔

بچپن سے جوانی کی دہلیز میں قدم رکھنے والے ان طالب علموں کو تمباکو نوشی، ایڈز اور ہیپاٹائٹس بی جیسے موذی امراض، کم عمری کی شادیوں اور نکاح نامے میں خواتین کو حاصل حقوق کے بارے میں بھی آگاہ کیاگیا ہے۔

یہ تعلیم غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ ہیں اور ہفتے میں اس کی دو کلاسیں ہوتی ہیں۔

شیر بانو نامی ٹیچر نے بتایا کہ انہوں نے طالبات کو یہ بھی پڑھایا ہے کہ وہ گھر میں ہوں یا باہر اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجائے تو چیخ کر کسی کو مدد کے لیے بلانا چاہیے اور خود کو بچانے کے لیے لاتوں اور ہاتھوں سے مزاحمت کرنا چاہیے۔ اگر اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش آجائے تو اس سے اپنے والدین اور اساتذہ کو آگاہ کرنا چاہیے۔

ساتویں جماعت کی طالبات سے میں نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص انہیں پریشان کرنے تو وہ کیا کریں گی؟ ایک طالبہ کا کہنا تھا ’دانتوں سے کاٹ کر بھاگ جانا چاہیے کیونکہ میرا جسم میرا ہے اس پر کسی اور کا حق نہیں۔‘

ایک دوسری طالبہ نے بتایا کہ انہیں برے اور اچھے میں تمیز بھی سکھائی گئی ہے جو شخص جسم سے پکڑے اس کو خراب کہنا ہے اور جو سر پر ہاتھ رکھے اس کو اچھا سمجھنا ہے۔

اس غیر نصابی تعلیم سے اساتذہ اور طالب علم دونوں کی ہمت افزائی ہوئی ہے اور ایک اعتماد کے رشتے کا آغاز ہوا ہے۔

صدر معلمہ صنم سومرو نے بتایا کہ پہلی جماعت کے ایک طالب علم نے اپنی ٹیچر کو بتایا تھا کہ اس کا انکل اس کو غلط جگہوں پر ہاتھ لگاتا ہے جو بچے اس کو لینے کے لیے جاتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ ہی غیر اخلاقی حرکات کرتا ہے۔

’ہم نے اس شخص کو اسکول میں بلوایا اور اس کہا کہ اس بچے نے یہ شکایت کی ہے لیکن وہ شخص مُکرگیا اور کہا کہ وہ ایسا نہیں ہے، بچے کی سوچ غلط ہے تاہم اس کے بعد اس نے بچوں کے ساتھ وہ حرکتیں کرنا چھوڑ دیں۔‘

جن آٹھ اسکولوں میں یہ تعلیم دی جاری ہے یہ سکول ولیج شاد آباد آرگنائزیشن نامی ایک تنظیم بی ایچ پی آئل کمپنی کی مالی معاونت سے چلائے جا رہے ہیں، جن میں 40 کے قریب اساتذہ ہیں۔ اس تعلیم سے پہلے ان کی بھی تربیت کی گئی تھی اب یہ فلیش کارڈز کی ذریعے 1300 سے زائد بچوں کو تعلیم دیتی ہیں جن میں 850 طالبات ہیں۔

خواتین کے حقوق کی آگاہی اور ہراساں ہونے سے کیسے محفوظ رہا جائے؟ اس سے یہ اساتذہ بھی لاعلم تھیں۔ دلاور پہنور پرائمری اسکول کی ٹیچر شبانہ ملاح بتاتی ہیں کہ وہ شہر سے پڑھ کر آئی ہیں لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے طالب علمی کے دنوں میں بھی یہ تعلیم ہونی چاہیے تھی کیونکہ کچھ ایسی غلطیاں ہوئیں، جو وہ اپنے والدین سے شیئر نہیں کر پائیں اگر اعتماد مل جاتا تو وہ کر سکتی تھیں۔

ولیج شاد آباد آرگنائزیشن کے سربراہ اکبر لاشاری کا کہنا ہے کہ اس تعلیم کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ صنفی تعلیم بچے کی حفاظت، اس کی ذاتی زندگی اور اس کے اپنے جسم سے تعلق رکھتی ہے، اگر کسی بچے سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس کے اثرات اس کی پوری زندگی پر رہتے ہیں، اس لیے اس کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ خود کو کیسے محفوظ بنا سکتا ہے۔

’جب ان کو یہ علم ہوگا کو اپنے پرائیوٹ پارٹس کو کس طرح محفوظ بنایا جاسکتا ہے، تو وہ مزاحمت بھی کرے گا، اور اپنے والدین کو بھی آگاہ کرے گا۔‘

کسی مزاحمت یا مخالفت سے بچنے کے لیے طالبات کو یہ تعلیم دینے سے پہلے ان کی ماؤں کو اسکول بلایا گیا اور ان پر بھی یہ زور دیا گیا کہ وہ اپنی بچیوں سے باتیں کریں ان کے مسائل سنیں اور اعتماد بحال کریں، اس کوشش کے مثبت نتائج سامنے آئے اور انہوں نے اس تعلیم کو قبول کر لیا۔

اسی بارے میں