طالبان اور حکومتی کمیٹی کے اراکین کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی طالبان کی کمیٹیوں کے اراکین پاکستانی سیاست، ذرائع ابلاغ اور مذہبی امور میں جانی پہچانی شخصیات ہیں

حکومتی کمیٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

عرفان صدیقی

حکومتی کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی ہیں جو اس وقت وزیرِاعظم کے خصوصی مشیر برائے قومی امور ہیں۔ عرفاں صدیقی ایک معروف صحافی اور کالم نگار ہیں جو کہ اخبار روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں اور اپنے قدامت پسند نظریات اور افغانستان میں امریکی جنگ پر تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے کئی بار افغانستان میں امریکہ کے خلاف طالبان کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

رحیم اللہ یوسف زئی

رحیم اللہ یوسف زئی ایک سیاسی اور سکیورٹی کے امور کے تجزیہ کار ہیں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں، افغانستان کے ساتھ ساتھ طالبان امور کے ماہر ماننے جاتے ہیں۔ وہ افغانستان کے حالات پر 1979 میں سویت حملے سے آج تک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ القاعدہ کے سابق سربراہ اوساما بن لادن اور افغان طالبان کے سربراہ مُلا عمر کے انٹرویو کر چکے ہیں۔ وہ پشاور میں روز نامہ دی نیوز کے مدیر ہیں اور ٹائم میگزین اور بی بی سی کے لیے نامہ نگار بھی رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rustam Shah

رستم شاہ مہمند

رستم شاہ مہمند افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ہیں اور صوبے خیبر پختونخواہ میں بر سرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے اہم رکن ہیں۔ رستم شاہ مہمند کو افعان امور کا ماہر مانا جاتا ہے اور وہ سکیورٹی معاملات کے حوالے سے ایک معروف تجریہ کار بھی ہیں۔ تقریباً دس سال کے عرصے تک وہ پناہ گزینوں کے لیے پاکستان کے چیف کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میجر محمد عامر

میجر محمد عامر پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق اہلکار ہیں جنہوں نے افعانستان میں سویت مداخلت کے دوران افغان مجاہدین کی تربیت اور معاونت کی تھی۔ میجر عامر کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد نے ایک مدرسہ تشکیل دیا تھا جو کہ دیوبندی اور وہابی مکتبۃ فکر سے منسلک تھا۔ پاکستانی طالبان کے موجودہ سربراہ مُلا فضل اللہ نے اپنی مذہبی تعلیم اسی مدرسے سے حاصل کی تھی۔

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق کو پاکستانی میڈیا میں ’طالبان کا موجد‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ایک بااثر مذہبی رہنما اور سیاست دان ہیں جن کی تعلیمات کو طالبان تحریک کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ مولانا سمیع الحق پاکستان کے ایک اہم ترین مدرسے دارالعلوم حقانیہ کے سرپرستِ اعلیٰ بھی ہیں جسے 1990 کی دہائی میں افغان جہاد کی نرسری تصور کیا جاتا ہے۔ ماضی میں ایک بار مولانا سمیع الحق نے مُلا عمر کو اپنے بہترین طالبعلموں میں سے ایک قرار دیا تھا اور انہیں ایک ’فرشتہ نما انسان‘ بیان کیا تھا۔ وہ جمیعت علما اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ ہیں اور پاکستان کے ایوانِ بالا میں دو مرتبہ رکنیت حاصل کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مولانا عبد العزیز

مولانا عبد العزیز پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے سخت حامی ہیں۔ وہ 2007 میں پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں فوج کے ساتھ کیشدگی میں ملوث اسلام آباد کی لال مسجد کے امام تھے۔ لال مسجد آپریشن میں مولانا عبد العزیز کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک برقعہ پہن کر وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ 21 ماہ قید کے بعد انہیں 2009 میں رہا کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے متعدد فتوے جاری کر رکھے ہیں جن میں موسیقی، فلموں اور خواتین کی تصاویر کو حرام قرار دیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ابراہیم خان

ابراہیم خان بنوں سے سابق سینیٹر ہیں۔ وہ اسلام پسند سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی کے صوبائی صدر ہیں اور طالبان اور القاعدہ کے حامی ہیں۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت نے حال ہی میں ایک بیان دیا تھا جس میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا گیا تھا۔