لاہور میں افغان قونصلیٹ کھولنے کا منصوبہ

Image caption جانان موسیٰ زئی اس ذمہ داری سے قبل کابل میں وزات خارجہ کے ترجمان کے طور پر فرائض سرانحام دے رہے تھے

پاکستان کے ساتھ برادرانہ ہمسایہ تعلقات میں مزید بہتری لانے کے لیے افغانستان لاہور میں قونصل خانہ کھولنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ بات پاکستان میں افغانستان کے نئے سفیر جانان موسیٰ زئی نے ایک نجی دعوت کے دوران بتائی۔

پاکستان میں فی الحال افغانستان کے تین قونصل خانے پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں کام کر رہے ہیں۔ افغانستان امید کر رہا ہے کہ لاہور میں چوتھا قونصل خانہ کھولنے سے دو طرفہ تجارتی اور ثقافتی روابط بڑھانے میں مدد ملے گی۔

جانان موسیٰ زئی اس ذمہ داری سے قبل کابل میں وزاتِ خارجہ کے ترجمان کے طور پر فرائض سرانحام دے رہے تھے۔ انہوں نے ابھی اپنی سفارتی دستاویزات پیش نہیں کی ہیں لیکن اسلام آباد میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

پاکستان کے سرکردہ صحافی اور اینکر پرسنز کے ساتھ نجی محفل میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں آج تک مسائل پر بات کی ہے اور وہ پہلوں عیاں نہیں کیے جو دونوں ممالک کے درمیان سالہا سال سے اچھے روابط کی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا ہر شہری پاکستان کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے اور یہی توقع پاکستان سے بھی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے درمیان کافی چیزیں مشترکہ ہیں جیسے مذہب اور سرحد، لہٰذا ہماری خوشیاں اور غم بھی سانجھے ہونے چاہیں۔ مجھے امید ہے کہ آگے چل کر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئی گی۔‘

سابق افغان سفیر عمر داؤد زئی کو صدر حامد کرزئی نے گذشتہ دنوں کابل طلب کر کے وزارت داخلہ کی اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ اپریل کے افغان صدارتی انتخابات کے تناظر میں پرامن انتخاب کا انعقاد بہت اہم ذمہ داری ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ان کی وزارت داخلہ میں آمد کے بعد سے امنِ عامہ کی صورتِ حال میں کئی جگہوں پر خاصی بہتری آئی ہے۔ وہ کئی سالوں سے بند راستے کھول پائے ہیں اور افغانستان کی اہم مرکزی شاہراہوں کو قدرے محفوظ بنا پائے ہیں۔

اسلام آباد میں موجودگی کے دوران انہوں نے میڈیا کے ساتھ اچھے لیکن محتاط تعلقات رکھے اور بیانات اور انٹرویوز سے اجتناب ہی کیا۔ لیکن ان کی نسبت لگتا ہے کہ نئے سفیر زیادہ ’میڈیا فرینڈلی‘ ہوں گے کیونکہ کابل میں وہ ذرائع ابلاغ سے رابطے میں رہتے رہے ہیں۔

جانان موسیٰ زئی امریکہ میں کارلٹن یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں