خیبرپختونخوا: چیف سیکریٹری ارباب شہزاد کو ہٹا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تبدیل کیے جانے والے سیکریٹری ارباب شہزاد کو گذشتہ سال جون میں خیبر پختون خوا کے چیف سیکریٹری کے طور پر تعینات کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت نے چیف سیکریٹری ارباب شہزاد کو ان کے عہدے سے ہٹا کر امجد علی خان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کر دیا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان شیراز پراچہ نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ چیف سیکریٹری ارباب شہزاد کو تبدیل کر کے ان کی جگہ گریڈ 22 کے وفاقی سیکریٹری امجد علی خان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے چیف سیکریٹری کی تبدیلی اور نئے چیف سیکریٹری کی تعیناتی کا باقاعدہ اعلامیہ ایک دو روز میں جاری کردیا جائے گا۔

شیراز پراچہ نے مزید کہا کہ ارباب شہزاد کی تبدیلی کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے جو وزیرِاعلی کے کہنے پر عمل میں لائی گئی ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ چیف سیکریٹری ارباب شہزاد نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے ۔اس سلسلے میں ارباب شہزاد کا موقف معلوم کرنے کےلیے ان سے کئی مرتبہ ٹیلی فون کے ذریعے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی پرویز خٹک اور چیف سیکریٹری کے درمیان بعض انتظامی امور پر اختلافات اور سرد جنگ کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ وزراعلی نے چیف سیکریٹری کو ہدایت جاری کیں تھیں کہ غیر ملکی دوروں پر اجیکٹ فنڈز اور سمریوں کو ان کے پاس براہ راست بھجوایا جائے تاکہ ان پر فوری احکامات جاری کیے جائیں تاہم چیف سیکریٹری کو یہ شکایت تھی کہ وزیر اعلی کی جانب سے بیوروکرسی کو ’بائی پاس‘ کیا جا رہا ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری کی جانب سے حال ہی میں وزیرِ اعلی کے بعض احکامات کو نظر انداز کیا گیا اور اپنے طور پر کچھ احکامات جاری کیے تھے جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تناؤ کی کفیت تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ چیف سیکریٹری سمیت بیشتر اعلی سرکاری اہل کار پرویز خٹک کے سخت رویے سے بھی ناراض تھے اور ان کے امور میں بے جا مداخلت اور ان پر دباؤ بھی ڈالتے رہے جس سے صوبے میں حکومت اور افسران کے درمیان ایک جنگ سی کفیت تھی۔

چند دن پہلے وزیرِاعلی پرویز خٹک نے اسلام آباد میں وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی تھی جس میں چیف سیکریٹری کی تبدیلی کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے اہم عہدیداران کا ابتداء سے سرکاری افسران سے رویہ سخت رہا ہے۔

چند ماہ پہلے عمران خان کی سربراہی میں صوبے کے تمام چیف سیکریٹریز کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں اعلی افسران کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا گیا تھا کہ ان کی پارٹی اپنے ایجنڈے کی تکمیل کےلیے سرکاری امور کے نمٹانے میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کرے گی۔

اجلاس کے دوران بعض سیکریٹریز کی جانب سے عمران خان کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ سرکاری امور کے نمٹانے کا اپنا طریقۂ کار ہے جس میں کئی قسم کے مسائل پیش آ سکتے ہیں تاہم عمران خان اپنی بات پر اڑے رہے جس سے اجلاس کے دوران ایک موقع پر گرما گرمی کا ماحول بھی پیدا ہوا۔

خیال رہے کہ تبدیل کیے جانے والے سیکریٹری ارباب شہزاد کو گذشتہ سال جون میں خیبر پختون خوا کے چیف سیکریٹری کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ارباب شہزاد تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے قریبی دوست بتائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تقرری بحثیت چیف سیکریٹری عمل میں لائی گئی تھی۔ اس سے پہلے وہ وفاقی سیکریٹری کے عہدے پر تعینات تھے۔

اسی بارے میں