کسی اور قانون کو مانتے تو جنگ ہی نہ کرتے: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکومت کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ابھی اس پر ردعمل دینا نہیں چاہتے:شاہد اللہ شاہد

کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ اگر طالبان کو شریعت کے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کااصل مقصد شریعت کے نافذ کے لیے ہے:’ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ شریعت کے لیے ہی لڑ رہے ہیں۔۔۔ابھی جو ہم مذاکرات کریں گے تو وہ شریعت ہی کے لیے کریں گے۔‘

آئین کی شرط منظور نہیں، عبدالعزیز مذاکرات سے علیحدہ

بی بی سی سے شاہد اللہ شاہد کی بات چیت سنیے

حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے پیش کی گئی تجاویز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان پر غور کیا جا رہا ہے تاہم مزید فیصلے وہ اپنی نمائندہ کمیٹی سے ملاقات کے بعد کریں گے۔

’اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ ساری باتیں جب ہم ان (طالبان کمیٹی) سے ملاقات کریں گے تو پوری طرح ان پر واضح کریں گے، ابھی یہ باتیں قبل از وقت ہیں۔‘

اس سوال پر کہ ملک میں پہلے سے نافذ آئین و قانون سے انکار کے بعد شریعت کے نفاذ کے لیے بات چیت کیسے آگے بڑھے گی؟

شاہد اللہ شاہد کا جواب تھا کہ ’یہ بہت آسان سی باتیں ہیں پہلی بات تو یہ ہے جن کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں وہ سب دعوی کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے تو یہ کسی مسلمان کے لیے یہ مشکل نہیں ہے۔ اب ہم امریکہ سے مطالبہ کریں کہ وہ شریعت نافذ کرے تو یہ ان کے لیے مشکل ہوگا لیکن یہ لوگ تو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔‘

طالبان ترجمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم وہ ابھی اس پر ردعمل دینا نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو مخالف گروہوں کی جانب سے مذاکرات میں مختلف مطالبات کیے جائیں گے۔ ’لیکن ہم مطمئن ہیں کہ شریعت کے نفاذ کے لیے یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔‘

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی سے ان کی ملاقات آئندہ چار سے پانچ دن میں ہو جائے گی۔

مولانا عبدالعزیز کی مذاکرات میں شمولیت سے انکار کے بعد نمائندہ کمیٹی کے بارے میں شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا وہ اب بھی ان کے نمائندے ہیں اور ان کی مشکلات بھی دور ہو جائیں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مولانا عبدالعزیز کا کہنا غلط نہیں ہے۔‘

اس سے قبل امن مذاکرات کے لیے طالبان کی طرف سے نامزد کردہ کمیٹی کے رکن اور لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز نے مذاکراتی کمیٹی کے نکات میں شریعت کے نفاذ کی شرط کی شمولیت تک مذاکرات سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

جمعے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات میں شریعت کے نفاذ پر بات نہیں کی جاتی وہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

انھوں نے کہا: ’ہم مذاکرات سے علیحدہ نہیں ہوئے لیکن تب تک مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے جب تک حکومتِ پاکستان وعدہ نہ کرے کہ آئین پاکستان نہیں بلکہ قرآن اور سنت کی روشنی میں مذاکرات ہوں گے۔‘

عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ’حکومت اسلامی یا شرعی نظام کے نفاذ کا وعدہ کرے گی تو میں مذاکرات کا حصہ بنوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں کمیٹی کا حصہ رہوں گا جب تک طالبان مجھے کمیٹی چھوڑنے کو نہیں کہتے مگر میں مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنوں گا۔‘

یاد رہے کہ حکومت اور طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے طالبان سے کہا ہے کہ تمام بات چیت پاکستان کے آئین کے دائرہ کار کے اندر رہ کر کی جائے گی اور اس کا اطلاق صرف شورش زدہ علاقوں تک محدود رہے گا۔

اسی بارے میں