’ابھی تک طالبان سے براہِ راست رابطہ نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مولانا عبدالعزیز (دائیں) مذاکراتی عمل سے علیحدہ ہوگئے ہیں

طالبان کی طرف سے نامزد کردہ تین رکنی کمیٹی کے ارکان کا تاحال طالبان سے براہِ راست رابطہ نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی کمیٹی کے ارکان طالبان کے موقف سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

’اس تنازعے میں طالبان نے ہمیں نامزد کیا ہے اور ابھی تک طالبان سے ہمارا براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، صرف ٹیلی فون پر رابطے ہو رہے ہیں۔‘ یہ بات طالبان کی طرف سے نامزد کردہ جماعت اسلامی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین سے ایک انٹرویو میں کہی۔

واضح رہے کہ طالبان کی طرف سے نامزد کردہ ایک اور رکن مولانا عبدالعزیز نے جمعے کو مذاکراتی عمل سے یہ کہتے ہوئے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ یہ شرط کہ مذاکرات آئین کے دائرے میں ہوں گے، قابل قبول نہیں ہے اور مذاکرات صرف اور صرف شریعت کے تحت ہونے چاہییں۔

پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ اس تنازعے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ طالبان کا موقف تفصیل سے سنیں اور اس کے بعد حکومت کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھائیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومتی موقف سے انھیں آگاہ کر دیا گیا ہے جو وہ طالبان کے سامنے رکھیں گے۔

آئین کی شرط پر مولانا عبدالعزیز کی مذاکراتی عمل سے علیحدگی کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا طالبان کا بھی یہی موقف ہے تو پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ جب تک وہ براہ راست طالبان کا موقف نہ سنیں وہ کوئی بات نہیں کر سکتے۔

مولانا عبدالعزیز کے مذاکراتی عمل سے علیحدہ ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز شریعت کے نام پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور وہ ان سے بات کریں گے۔ ’ان کا شریعت کا جو مطالبہ ہے وہ ہمارا بھی ہے۔‘

حکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ آئین کے فریم ورک میں مذاکرات کا فیصلہ مشترکہ طور پر اتفاق رائے سے کیا گیا تھا اور اس پر کمیٹی کے اندر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ابھی تک برقرار ہے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کی سیاسی کمیٹی کے ارکان قبائلی علاقے میں جائیں گے اور طالبان کی شوریٰ سے ملاقات کریں گے جس کے بعد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کی کوشش ہو گی کہ مذاکراتی عمل میں طالبان براہ راست شامل ہو جائیں اور طالبان کی شوریٰ سے بات ہو۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کی شوریٰ سے ملاقات کے لیے حکومتی کمیٹی قبائلی علاقے میں جانے کے لیے تیار ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ کمیٹیوں کو مضبوط کرنا چاہیے اور اس میں دونوں طرف سے براہ راست شمولیت ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ چوہدری نثار کو اس کمیٹی میں شامل ہونا چاہیے اور دوسری طرف طالبان کی شوریٰ کے سرکردہ ارکان کو بھی ان کی سیاسی کمیٹی میں نامزد کیا جانا چاہیے۔