’یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ یہ ریاستی یا غیر ریاستی عناصر ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کمیٹیاں ایک دوسرے سے ملاقات کر رہی ہیں، بات چیت جاری ہے۔ قوم کو بھی اعتماد میں لے رہیں اور میڈیا سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں: نواز شریف

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان اور پوری قوم دنیا کے سامنے شرمندہ ہوتی رہی اور آج بھی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے سنیچر کو لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ہم یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے ہیں کہ یہ ریاستی یا غیر ریاستی عناصر ہیں، یہ آپ کی غلط پالیسیاں تھیں جس کی وجہ سے پاکستان اور پوری قوم دنیا کے سامنے شرمندہ ہوتی رہی اور آج بھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیاں ٹھیک کام رہی ہیں اور انہوں نے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

لاہور میں سنیچر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیاں ٹھیک کام رہی ہیں۔

نواز شریف نے کہا ’کمیٹیاں ایک دوسرے سے ملاقات کر رہی ہیں، بات چیت جاری ہے۔ قوم کو بھی اعتماد میں لے رہیں اور میڈیا سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ میرے خیال میں وہ تمام مسائل سے نمٹ رہے ہیں اور میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا‘۔

اس سے پہلے 37 ویں ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی، فرقہ وارانہ فسادات اور انتہا پسندی جیسے مسائل ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور اس سے پاکستان کا امیج پوری دنیا میں خراب ہوا ہے۔

پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ’سنہ 1970 میں صنعتوں کو قومی تحویل میں لینا ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ اس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا‘۔

نواز شریف نے ملک کی اقتصادی ترقی میں نجی شعبے کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اقتصادی ترقی میں نجی شعبے کے موثر کردار کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر کہا کہ کمیٹیاں بات چیت کر رہی ہیں اس لیے ان کو ان کا کام کرنے دینا چاہیے اور ہم سب کو بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

اس سوال پر کہ طالبان کے مطالبے پر کیا پاکستانی فوج کے سربراہ طالبان سے ملاقات کریں گئے؟ انھوں نے کہا ’ابھی تک حکومتی کمیٹی طالبان کے یہ مطالبات ہمارے پاس لے کر نہیں آئی اس لیے جب وہ آئی گی تب ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا‘۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ طالبان سے مزاکرات کے لیے ابھی بات چیت کو شروع ہوئے دو تین دن ہی ہوئے ہیں اس لیے اس حوالے سے اتنی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں