حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ VMBP
Image caption ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کی جانب سے ٹوئٹر پر یہ تصویر جاری کی گئی جس میں سڑک پر ٹریفک رکی ہوئی نظر آ رہی ہے

صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں پولیس حکام کے مطابق ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے مارچ کے شرکا کو پیش آنے والے حادثے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔

’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کا کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں سے گزر رہا ہے جہاں رینالہ خورد کے قریب مارچ میں شریک افراد کے مطابق انھیں ایک ٹرک نے ٹکر مار کر کچلنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب مارچ کی حفاظت پر مامور پولیس کے اہلکاروں میں سے ایک اے ایس آئی نے بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور ٹرک بریک فیل ہونے کے نتیجے میں ان افراد سے ٹکرا گیا تھا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں داخلے کے ساتھ ہی پنجاب پولیس ان کی حفاظت کے لیے انتظامات کر رہی ہے اور ان کے ساتھ ہر وقت ایک پولیس موبائل ٹیم اور ٹریفک پولیس کے اہلکار ہوتے ہیں جو انھیں ایک حفاظتی حصار میں لے کر چلتے ہیں۔

مارچ کی قیادت کرنے والے وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے ماما قدیر نے بتایا کہ’ایک ٹرک نے انھیں اور مارچ میں شریک افراد کو ٹکر مار کر کچلنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں انھیں اور دو اور افراد کو چوٹیں لگیں۔‘

مارچ کے شرکا کا اصرار ہے کہ ان کی سکیورٹی کے لیے انتظامات مناسب نہیں ہیں اور وہ موجودہ انتظامات سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور لوگ انہیں گالیاں دیتے ہیں اور مبینہ طور پر پاگل کہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ VMBP
Image caption ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ تصویر جاری کی گئی جو ماما قدیر کی ہے

تھانہ رینالہ خورد کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا جس کی تلاش جاری ہے تاہم اس واقعے کی کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔

بلوچستان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز جمعہ 13 دسمبر 2013 کو کیا گیا تھا جو سندھ سے گزرتا ہوا سنیچر 18 جنوری 2014 کو پنجاب میں داخل ہوا۔

کراچی سے 36 روز کا پیدل سفر کر کے یہ مارچ پنجاب میں داخل ہوا تھا جو آنے والے ہفتے میں لاہور پہنچے گا۔

اسی بارے میں