بلوچستان: تشدد کے واقعات میں بارہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قبائلیوں نے حملہ آوروں کا پیچھا کیا اور صحبت پور کے علاقے میں ان کی حملہ آوروں سے جھڑپ ہوئی

پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں تشدد کے مختلف واقعات میں 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کوئٹہ کے قریب سے ایک شخص کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد نے ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے آرڈی 238 کے علاقے میں ایک گھر پر حملہ کیا۔

حملے کے نتیجے میں دو خواتین اور دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہو گئے۔

وزیر داخلہ کے بقول حملے کے بعد قبائلیوں نے حملہ آوروں کا پیچھا کیا اور صحبت پور کے علاقے میں ان کی حملہ آوروں سے جھڑپ ہوئی۔

اس جھڑپ کے نتیجے میں ایک قبائلی اور دو حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے حوالے سے فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی تعداد چھ ہے۔

ایف سی کے بیان کے مطابق حملہ آوروں نے سات افراد کو اس بنیاد پر ہلاک کیا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔

دوسری جانب بولان کے علاقے لنجھی میں افغانستان جانے والے ایک کنٹینر پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

بولان انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے کنٹینر کو آگ بھی لگادی۔

ادھر کوئٹہ کے قریب کچلاک کے علاقے سے ایک برساتی نالے سے ایک شخص کی مسخ شدہ لاش بر آمد ہوئی ہے۔

کچلاک پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لاش چار ماہ پرانی اور ناقابل شناخت ہے۔

اسی بارے میں