رحیم یار خان:گیس کی تین پائپ لائنیں دھماکے سے تباہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پائپ لائنوں میں لگنے والی آگ پر کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد قابو پایا جا سکا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر رحیم یار خان کے قریب قدرتی گیس کی تین مرکزی پائپ لائنیں دھماکے سے تباہ ہوگئی ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شب سکندر آباد نامی گاؤں کے قریب پیش آیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی اور دھماکے کے نتیجے میں پائپ لائنوں نے آگ پکڑ لی۔

رحیم یار خان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر سہیل ظفر چٹھہ نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ دھماکے کی نوعیت تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم تخریب کاری کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس جگہ پائپ لائنیں تباہ ہوئی ہیں وہاں 80 فٹ چوڑا اور 40 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔

پائپ لائنوں میں لگنے والی آگ پر کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد قابو پایا جا سکا۔

تھانہ رکن پور کے ایس ایچ او رانا محمد ریاض نے اے پی پی کو بتایا کہ آگ لگنے کے بعد پائپ لائن کے قریب واقع دیہات کو خالی کروا لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور دھماکے کے وجوہات جاننے کی کوشش جاری ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے سوئی ناردن گیس کے مینیجنگ ڈائریکٹر عارف حمید کے حوالے سے کہا ہے کہ تباہ ہونے والی پائپ لائنیں 16، 18 اور 24 انچ قطر کی تھیں۔

اس واقعے کے بعد صوبہ پنجاب کے متعدد شہروں میں گیس کا پریشر بہت کم رہ گیا ہے۔ سوئی ناردرن کے حکام کے مطابق متاثرہ پائپ لائنوں کی مرمت میں ایک سے دو دن کا وقت لگ سکتا ہے۔

عارف حمید کے مطابق پائپ لائنیں تباہ ہونے سے 630 ملین کیوبک فٹ شارٹ فال کا سامنا ہے اور سسٹم میں صرف 400 ملین کیوبک فٹ گیس رہ گئی ہے۔

خیال رہے کہ جن پائپ لائنوں کو تباہ کیا گیا ہے ان سے سندھ اور بلوچستان سے پنجاب کے شہروں رحیم یار خان، ملتان، بہاولپور، لاہور اور فیصل آباد کو قدرتی گیس فراہم کی جاتی ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں چند برس قبل تک شدت پسندوں کی جانب سے گیس پائپ لائنوں کو تواتر سے نشانہ بنایا جاتا رہا تاہم گذشتہ دو برس میں ایسے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں