میرا مقدمہ فوجی عدالت میں چلائیں: مشرف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ملزم کے وکیل نے اُن پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کا قانون عام عدالتوں سے زیادہ سخت ہے اور اگر قانون کا تقاضا نہ ہوتو کوئی پاگل ہی مقدمہ عام عدالت سے فوجی عدالت میں لے کر جائے گا۔

یہ بات ڈاکٹر خالد رانجھانے سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ خصوصی عدالت میں سماعت کرنے کی بجائے اسے فوجی عدالت میں بھیجنے سے متعلق درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی فوجی افسر آئین کے خلاف کوئی کام کرتا ہے تو پھر آرمی ایکٹ کا قانون خود بخود لاگو ہوجاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فوجی عدالت میں مقدمے کی منتقلی کو ہرگز اعترافِ جُرم نہ سمجھا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1977 کے خصوصی ایکٹ میں سنگین غداری کے جرم کو آرمی ایکٹ کے ماتحت کیا گیا ہے اس لیے اُن کے موکل کے خلاف مقدمے کی کارروائی کو فوجی عدالت میں بھیج دیا جائے۔

اس پر بنچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملزم خود کسی بات کا اعتراف کر بھی لے تو عدالت پھر بھی باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے۔

یاد رہے کہ تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سپریم کورٹ کے 31 جولائی سنہ 2009 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست میں پرویز مشرف کے وکیل نے کہا تھا کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کا اقدام اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کا انفرادی فیصلہ تھا۔

سابق فوجی صدر کے وکیل نے تین فوجی جرنیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اُن پر بدعنوانی کے الزامات لگے تھے تو ان فوجی افسران کو اُن کے عہدوں پر بحال کرنے کے بعد اُن کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

ڈاکٹر خالد رانجھا نے سوال کیا کہ جب ملزم کو اس بات کا ہی علم نہ ہو کہ اُس کا مقدمہ کس عدالت میں چلے گا تو وہ کیسے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کرسکتا ہے؟ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی نوٹیفکیشن بھی جاری کرنا ضروری ہوتا ہے، جس پر خالد رانجھا نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اُنھوں نے کہا کہ غداری کا مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق 23 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں دیا گیا۔ اس مقدمے کی سماعت سے پہلے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ اور پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل وکیل رانا اعجاز کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ملزم کے وکیل نے اُن پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے جس کی رانا اعجاز نے نفی کی، تاہم عدالت نے اس معاملے کے لیے کلوز سرکٹ کمیرے سے ریکارڈ کیے گئے مناظر طلب کر لیے ہیں تاکہ حقائق معلوم کیے جا سکیں۔

بنچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی حرکتیں تو سکول اور کالج کے بچے بھی نہیں کرتے جبکہ وکلا عدالتی افسر ہیں، اُنھیں تو عدالت کا احترام کرنا چاہیے۔

سابق فوجی صدر کے وکلا نے عدالت میں درخواست دی ہے کہ اسلام آباد پولیس کے سپیشل برانچ کے اہل کار اُنھیں ہراساں کر رہے ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت 11 فروری کو دوبارہ ہوگی۔

اسی بارے میں