’طالبان کی جانب سے حوصلہ افزا جواب آیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مولانا سمیع الحق نے دارالعلوم حقانیہ میں پریس کے نمائندوں سے بات کی

طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے حکومتی تجاویز پر حوصلہ افزا جواب آیا ہے جس پر حکومتی کمیٹی سے ایک دو دن میں بات کی جائے گی۔

یہ بات انہوں نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں میڈیا کے ارکان سے بات کرتے ہوئے کہی جو کمیٹی کے اراکین کی قبائلی علاقوں سے مذاکرات کے بعد واپسی کے موقعے پر جمع تھے۔

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ یہ قومی مسئلہ ہے اور یہ تمام باتیں قوم کی امانت ہیں اس لیے وہ انہیں سب کے سامنے نہیں رکھ سکتے۔

مذاکراتی کمیٹی کی طالبان سے مشاورت مکمل

’کسی اور قانون کو مانتے تو جنگ ہی نہ کرتے‘

طالبان سے مشاورت کے لیے طالبان کمیٹی وزیرستان میں

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وہ کل یا پرسوں حکومتی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کریں گے اور انہوں نے اپیل کی کہ اس معاملے میں جذبات سے کام نہ لیا جائے۔

اس سے قبل طالبان کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ طالبان شوریٰ نے امن مذاکرات کے لیے ابھی کسی قسم کی شرائط کا اعلان نہیں کیا ہے اور انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ میں ان سے منسوب کی جانے والی شرائط کی نفی کی۔

بی بی سی کے طاہر خان سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ذرائع نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے مشاورتی عمل کے دوران باضابطہ طور پر طالبان نے ابھی کچھ بھی نہیں کہا۔

یاد رہے کہ اتوار کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی نمائندہ کمیٹی کے دو رکنی وفد اور طالبان رہنماؤں کے درمیان جاری مشاورت کا عمل مکمل ہو گیا تھا۔

طالبان ذرائع نے مقامی ذرائع ابلاغ میں اتوار کو سامنے آنے والی 15 شرائط کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا اصرار ہے کہ وہ ایسی شرائط ابتدا میں نہیں رکھیں گے جن سے معاملات آگے نہ بڑھ سکیں اور تلخیاں پیدا ہوں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ طالبان پیر کو باضابطہ طور حکومت کے سامنے اپنی شرائط پیش کریں۔

مشاورت کے عمل کی طوالت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان کچھ چیزوں کی وضاحت کرنا چاہتے تھے اور انھیں کچھ وضاحتیں درکار تھیں اور اس میں وقت لگا ہے۔

طاہر خان کے مطابق اس دو روزہ مشاورتی عمل کو ذرائع نے مثبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’کچھ نہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو ان کے ترجمان اور طالبان سے مشاورت کے لیے جانے والے یوسف شاہ نے بتایا کہ ’حالات اچھے ہیں اور بات آگے بڑھی ہے۔‘

جمعیت علمائے اسلام (س) اور طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ذاتی معاون سید احمد شاہ نے بی بی سی کو اتوار کو بتایا تھا کہ طالبان سے ملاقات کے لیے جانے والے دونوں اراکین پروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ پیر کو پشاور پہنچ جائیں گے۔

اتوار کو دوسرے روز کے مشاورتی اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق سے فون پر بات بھی کی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے مذاکراتی ٹیم کی واپسی میں تاخیر کے بارے میں استفسار کیا جس پر مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں کی پروازوں کے باعث مشاورت کا مقام بار بار تبدیل کرنا پڑا جس کے باعث تاخیر ہوئی ہے۔

اس موقعے پر وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا، پاکستان دشمنی کے مترادف ہو گا۔‘

یاد رہے کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم اور کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ترجمان یوسف شاہ پر مشتمل مذاکراتی وفد طالبان سے بات چیت کے لیے سنیچر کو روانہ ہوا تھا۔

یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ دو رکنی وفد کو سنیچر کی صبح آٹھ سے نو بجے کے درمیان ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہلے پشاور اور پھر میران شاہ تک پہنچایا گیا۔

’طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو میران شاہ میں پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر تک پہنچایا گیا جس کے بعد طالبان انھیں اپنے طور پر نامعلوم مقام پر لے گئے۔‘

حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان گذشتہ جمعرات کو پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تھی جس میں حکومت کی جانب سے پانچ اور طالبان کمیٹی کی جانب سے تین نکات سامنے آئے تھے۔

اسی بارے میں