حکومت غیر ضروری شرائط سےگریز کرے: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طالبان کمیٹی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور سے میران شاہ گئی تھی

طالبان سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمٹیی نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے جبکہ حکومت اور طالبان کی کمیٹیاں آئندہ ایک سے دو روز میں ملاقات کریں گی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کے لیے قائم کی جانے والی حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے کہا کہ انھوں نے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی اور انھیں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ملاقات اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان سے ملاقات کر کے لوٹنے والے وفد کی قیادت نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔’طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے بتایا ہے کہ وہ طالبان سے ملاقات کر کے لوٹ آئے ہیں اور ایک سے دو روز میں ہم سے ملاقات کریں گے۔‘

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کے لیے آنے والے دو رکنی دفد کی جانب سے پیش کردہ حکومتی مطالبات کو شوریٰ کے سامنے پیش کیا اور پھر طالبان قیادت کو آگاہ کیا گیا۔

’مذاکراتی وفد پر واضح کر دیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ایسی غیر ضروری شرائط سے گریز کیا جانا چاہیے جس کے پورے نہ ہونے کی صورت میں مذاکراتی عمل کونقصان پہنچ سکتا ہو۔‘

تحریک کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق پورے غور و غوض کے بعد دو رکنی وفد کو مثبت جواب دیاگیا ہے اور طالبان کی جانب سے بھی مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا جائےگا اور دوران مذاکرات پیش آنے والی تلخیوں پر دونوں فریق صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ادھر آج پاکستان کے ایوان بالا میں طالبان سے مذاکرات، ان کے مطالبات اور مختلف جماعتوں کے تحفظات اہم موضوع بحث تھے۔ نکتہ اعتراض پر اپنے ردعمل میں سینٹ کے قائد ایوان اور مسلم لیگ ن کے سینیئر راہنما راجہ ظفرالحق نے کہا کہ طالبان اور حکومت کے مابین بات چیت یعنی مذاکرات آئین پاکستان کے دائرہ کار میں ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ 1973 کا آئین ملک کے اہم مذہبی علماء اکرام نے تیار کیا جو پارلیمان کے رکن بھی تھے اور اس آئین پر پر ان کے دستخط ہیں۔

’ان میں پارلیمنٹ کے اراکین مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالحق اور مولانا عبدالستار نیازی کا نام شامل ہے جومعروف علماء کرام تھے اور انھوں نے اس آئین کا حلف اٹھایا اور اس کے تحت امور چلائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے صرف ایک رکن ایسے ہیں جنھوں نے پاکستان کے قانون پر اعتراض کیا ہے تاہم یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور یہ مداکراتی عمل کو متاثر نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ اتوار کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی نمائندہ کمیٹی کے دو رکنی وفد اور طالبان رہنماؤں کے درمیان جاری مشاورت کا عمل مکمل ہو گیا تھا۔

واپس لوٹنے والے دو رکنی مذاکراتی وفد نے جس میں جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم اور جے یو آئی (س) کے یوسف شاہ شامل تھے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات میں مثبت ردعمل ملا ہے تاہم انھوں نے میڈیا کو فی الحال مذاکرات اور طالبان کے مطالبات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں طالبان کے حوالے سے ان کے سامنے پیش کیے جانے والے مطالبات بے بنیاد اور افواہ ہیں۔

طالبان کا مذاکراتی وفد حکومتی کمیٹی کے ساتھ ملاقات کے بعد پانچ نکات لے کر طالبان کے پاس میران شاہ کے جنوب میں چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد نامعلوم مقام پر ہفتے کے روز پہنچا تھااور اس کی واپسی آج ہوئی ہے۔

اسی بارے میں