فائر بندی کی تجویز پر بات ہو گی: سمیع الحق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کی یہ ملاقات حکومتی کمیٹی کے رکن میجر (ر) عامر کے گھر پر ہوئی

طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے حکومتی کمیٹی کے رابطۂ کار عرفان صدیقی کے ہمراہ منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کی جانب سے فائربندی کی تجویز ہے، جس پر حکومتی کمیٹی کے ساتھ آئندہ ہونے والی باضابطہ ملاقات میں بات کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ دو رکنی وفد کی طالبان سے ملاقات کے بعد واپسی پر ہم نے مناسب سمجھا کہ حکومتی کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا: ’اس ملاقات میں طالبان نے جو وضاحتیں طلب کی تھیں اُس بارے میں بات ہوئی، اس کے علاوہ ماحول کو پرامن رکھنے کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی۔‘

مولانا سمیع الحق نے کہا: ’حکومتی کمیٹی کی جانب سے اطمینان کا جب کہ طالبان کی جانب سے دوراندیشی کا اظہار کیا گیا۔ کسی نے کوئی ایسا مسئلہ نہیں اٹھایا جس سے مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے۔‘

پشاور بم دھماکوں سے متعلق مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ دشمن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کا سراغ لگائے۔

اس موقعے پر حکومتی کمیٹی کے رابطۂ کار عرفان صدیقی نے کہا کہ دو رکنی وفد جو بھی تفصیلات لے کر آیا ہے اس پر اطمینان ہے اور آنے والے دنوں میں مثبت اقدامات ہو سکتے ہیں۔

عرفان صدیقی کے مطابق طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے طالبان کی شوریٰ کے ساتھ ملاقات کے مثبت اشارے ملے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کی تجاویز اطمینان بخش ہیں اور امید کا اظہار کیا کہ عوام کو جلد ہی کوئی اچھی خبر سنے کو ملے گی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کی یہ ملاقات حکومتی کمیٹی کے رکن میجر (ر) عامر کے گھر پر ہوئی۔

اس ملاقات میں مولانا سمیع الحق، پروفیسر ابراہیم، یوسف شاہ، میجر (ر) عامر، رستم شاہ مہمند اور عرفان صدیقی موجود تھے۔

اس غیر رسمی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی بھی خواہش ہے کہ عوام جلد خوش خبری سُنیں۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر ابراہیم اور مولانا محمد یوسف شاہ پر مشتمل کمیٹی نے طالبان کی شوریٰ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں اگاہ کیا اس کے علاوہ طالبان کی شوری نے حکومتی کمیٹی کے نکات پر مثبت اور حوصلہ افزا ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ وہ کھلے ذہن سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور وہ قیام امن کی خاطر حکومتی کمیٹی کے ارکان کو کسی بھی وقت خوش آمدید کہا جائے گا۔

حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان گذشتہ جمعرات کو پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تھی جس میں حکومت کی جانب سے پانچ اور طالبان کمیٹی کی جانب سے تین نکات سامنے آئے تھے۔

اسی بارے میں