فہد عزیز تشدد کیس: وزیر اعظم نے رپورٹ طلب کرلی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیراعظم نے یہ ہدایت ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی طرف سے انہیں لکھے گئے خط کے بعد جاری کی

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ سے 24 گھنٹوں کے اندر اندر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن فہد عزیز پر تشدد سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔

انہوں نے اس معاملے میں ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی طرف سے انہیں لکھے گئے خط کے بعد جاری کی۔

ایم کیو ایم کے کارکن فہد عزیز کو پولیس نے گذشتہ ہفتے کی رات اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب وہ اپنی شادی کے لیے جار رہے تھے۔ ان پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور دوسرے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن فہد عزیز کی میڈیکل رپورٹ اور متعلقہ پولیس سٹیشن سے روزنامچہ بھی طلب کیا ہے۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس کے تمام لاپتہ کارکنان کو 24 گھنٹے میں بازیاب کیا جائے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن کے دوران حراست میں لیے جانے والے اس کے 45 کارکن لاپتہ ہیں۔

اس سے پہلے کراچی میں گذشتہ شب متحدہ قومی موومنٹ کے ایک کارکن محمد عادل مبینہ پولیس تشدد سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی نے میڈیا کو بتایا کہ محمد عادل کو دو روز قبل نارتھ کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ’حراست کے دوران ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا جس سے ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں انتہائی تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت واقع ہوگئی۔‘

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں میٹرک بورڈ آفس کے قریب موٹر سائیکل پر ایم کیوایم کے ایک ہمدرد معراج الدین اپنے بیٹے کے ہمراہ آرہے تھے کہ پولیس نے انہیں روکا، اور ان کی بے عزتی کی اور ڈبل سواری کے جرم میں بیٹے کے سامنے باپ کو سڑک پر لٹا کر بہیمانہ تشدد کیا جس کے باعث وہ سڑک پر ہی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کورنگی سیکٹر کے کارکن فہد عزیز کا واقعہ بھی غفلت نہیں ٹارچر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل ایم کیوایم کورنگی سیکٹر کے کارکن سلمان کو کورنگی کراسنگ سے پولیس اہل کاروں نے بھانجے سمیت گرفتار کیا، ان کے بھانجے کو ٹاور پر چھوڑ دیا اور دوسرے دن سلمان کی لاش ملی جسے لاوارث سمجھ کر ایدھی کے سرد خانے میں رکھوا دیاگیا۔

الطاف حسین نے الزام عائد کیا کہ چند ماہ کے دوران رینجرز کے ہاتھوں ایم کیو ایم کے کئی گرفتار کارکنان لاپتہ ہیں، گذشتہ چند ماہ کے دوران جن میں سے مبینہ طور پر پانچ سے زائد کارکنان کا ماورائے عدالت قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں