طالبان طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں: اعتزاز احسن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم میں اہل تشیع، اقلیتی نمائندے اور خواتین کو بھی شامل کیا جائے

پاکستان کے پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ طالبان کو ملک میں شریعت نافذ کرنے کی بجائے اپنے قیدی چھڑوانے میں دلچسپی ہے۔

ملک میں امن وامان کی موجودہ صورتِ حال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کی پسپائی دکھائی دے رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ 30 فیصد طالبان وزیرستان اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں ہیں جبکہ 70 فیصد طالبان اور اُن کے حمایتی پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہیں۔

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ کراچی، لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں میں جو بارود سے بھری ہوئی گاڑیاں پھٹتی ہیں، وہ بارود فاٹا کے علاقوں سے نہیں بلکہ اُنھی شہروں سے لایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت مذاکرات کی مخالف نہیں ہے لیکن جس طریقے سے مذاکرات ہور ہے ہیں، وہ قبول نہیں ہے۔

چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ طالبان اب سیاسی جماعتوں میں بھی آگئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے طالبان طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ رات ہوگئی لیکن ان مذاکرات کے نتیجے میں سحر کب ہوگی، یہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو مات پر مات دے رہے ہیں اور حکومت ہے کہ مورچہ زن ہو کر رہ گئی ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ حکومت نے طالبان کی حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے اورحکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی طالبان کی ٹیم میں مولانا عبدالعزیز جیسے لوگ رکھے گئے ہیں جن کا موقف یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں اقلیتوں اور عورتوں کو نہیں ہونا چاہیے۔

چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم میں اہل تشیع، اقلیتی نمائندے اور خواتین کو بھی شامل کیا جائے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ طالبان نے پاکستان کے آئین کو تسلیم کیا ہے اس لیے اُنھوں نے اپنی جماعت کا نام تحریک طالبان پاکستان رکھا ہے۔

اُنھوں نے اعتزاز احسن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ابھی مذاکرات شروع بھی نہیں ہوئے جبکہ حزبِ مخالف کی جماعت اُنھیں ناکام قرار دے رہی ہے۔

داخلہ امور کے وزیرِ مملکت بلیغ الرحمٰن نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کو دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو سینیٹ کے ارکان اس پر تنقید کر رہے ہیں وہ یہ واضح کریں کہ کیا یہ اُن کی ذاتی رائے ہے یا اُن کی جماعتوں نے پالیسی تبدیل کر لی ہے۔

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، اُس وقت تک حکومت کسی دوسرے آپشن پر غور نہیں کرے گی۔

سینیٹ کا اجلاس اب 12 فروری کو ہوگا۔

اسی بارے میں