طالبان سے مذاکرات میں خواتین، اقلیتوں پر سمجھوتہ نہ کیا جائے: متفقہ قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ نے ہی سنہ 2011 میں خواتین دشمن روایات کا امتناعی ایکٹ منظور کیا تھا

پاکستان کے سینیٹ میں خواتین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے جرگوں پر پابندی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی سینیٹر نسرین جلیل نے یہ قرارداد بدھ کو ایوانِ بالا میں پیش کی۔

پاکستان میں ونی، بدل صلح اور سوارہ کی رسوم کے تحت جرگوں کے ذریعے خواتین کو فریقِ مخالف کے حوالے کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق ایسے واقعات کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے تاہم علاقائی رسم و رواج اور خاندان کو بدنامی سے بچانے کی خاطر انہیں خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا جاتا ہے۔

اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت مستقبل میں ایسے ہونے والے جرگوں کی نگرانی کے لیے ایک کمیشن قائم کرے جس سے غیر سرکاری تنظیمیں اور جرگے کے فیصلوں سے متاثر ہونے والی خواتین کو رابطہ کرنے میں آسانی ہو۔

قرارداد میں زنا کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو بطور شہادت قبول کرنے سے تجویز بھی شامل تھی تاہم ایوان میں مشاورت کے بعد اسے قرارداد سے خارج کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔

سینیٹ کی کارروائی کے دوران نسرین جلیل نے نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے کچھ علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا بھی حق نہیں دیا جاتا وہیں ونی، کاروکاری اور قرآن سے نکاح جیسی رسوم موجود ہیں، جنھیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ پارلیمنٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کو زندہ دفن کرنا قبائل کی رسومات میں شامل ہے۔

ایم کیو ایم کی سینیٹر کی استدعا پر ایوان نے اپنی روزمرہ کی کارروائی معطل کرتے ہوئے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی سینیٹ نے ہی سنہ 2011 میں خواتین دشمن روایات کا امتناعی ایکٹ منظور کیا تھا۔

اس قانون کے تحت بدل صلح، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی کے مرتکب افراد کو سات برس تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے اور اس قانون کے تحت اب یہ جرائم ناقابل ضمانت ہیں۔

گذشتہ برس پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ونی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ یہ جرگے قانون اور انسانیت کے خلاف ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان جرگوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے جرگوں کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے بہت سے لوگ نہ صرف اپنی زندگیاں گنوا بیھٹے بلکہ لوگوں کو ان جرگوں کے فیصلوں کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔

اسی بارے میں