تھر میں وائرس سے ہزاروں بھیڑیں ہلاک

Image caption ہرے سنگھ نے اپنی باقی ماندہ بھیڑوں کو جھونپڑیوں میں بد کر دیا ہے تاکہ ان پر ماتا کا سایہ نہ پڑے

دو جھوپڑیوں میں کچھ بھیڑیں بند ہیں اور کچھ ہی دور کھلے میدان میں کئی مری ہوئی بھیڑوں کی باقیات پڑی ہیں۔ یہ بھیڑیں ’شیپ پاکس‘ وائرس کی وجہ سے مرگئی تھیں۔اس بیماری کو مقامی زبان میں ’ماتا‘ کہا جاتا ہے ۔

سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے گاؤں جمعے کی وانڈھ کے رہائشی ہرے سنگھ کی 150 بھیڑیں مرچکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھیڑوں کو اس لیے جھوپڑیوں میں بند کر دیا ہے تاکہ ان پر ’ماتا‘ کا سایہ نہ پڑے۔

ہرے سنگھ نے ماتا کو راضی کرنے کے لیے اگربتیاں جلائیں، منتیں مانگیں، میٹھی روٹیاں بانٹیں لیکن کوئی بھی کوشش کارگر ثابت نہ ہوسکی۔ ’ اگر ماتا راضی ہوجاتی تو یہ بیماری چھوڑ جاتی لیکن راضی نہیں ہوئی اور بھیڑیں مرگئیں۔‘

ہندو دھرم کے عقیدے کے مطابق جب ماتا ناراض ہوتی ہیں تو وہ انسان یا جانور میں بیماری کی شکل اختیار کرتی ہے ۔ ماتا کو راضی کرنے کے لیے مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں۔

جوڑؤ گاؤں کے رہائشی بشیر سمیجو کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ بزرگوں نے مشورہ دیا کہ بھیڑوں کوگھوڑی کا دودھ پلائیں۔گھوڑی کا دودھ تو کلو میں نہیں ہوتا بلکہ بہت کم ہوتا ہے اس لیے انھوں نے گھوڑی کا دودھ گائے کے دودھ میں ملاکر بھیڑوں کو پلایا لیکن فائدہ نہیں ہوا۔

تھر میں مسلم اور ہندو آبادی اعداد و شمار میں تقریباً برابر ہے۔ صدیوں سے ساتھ رہنے کی وجہ سے دونوں کی رسومات آپس میں رچ بس گئی ہیں۔ لال محمد نھڑی کا کہنا ہے کہ ہندو دہرم میں گائے بھی ماتا کا درجہ رکھتی ہے۔گائے کے کان کو کٹ لگا کر اس کا خون نکالتے ہیں اور وہ خون بھیڑوں پر چھڑکا جاتا ہے تاکہ گائے ماتا کے کرم سے ماتا بیماری چھوڑ جائے اور بھیڑیں بچ جائیں۔

دوہزار چھ کی جانوروں کی شماری کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ مال مویشی تھے اور ان میں سے پچاس لاکھ تھر میں ہیں۔ پندرہ لاکھ آبادی کے صحرائی علاقے تھر میں اکثر لوگوں کا اثاثہ مال مویشی ہیں جس کے لیے بھیڑوں کی افزائش عام ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھیڑ سال میں دو بچے دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ہرجی بھیل کی 50 بھیڑیں وائرس کی نظر ہو چکی ہیں

تھر میں گزشتہ دو ماہ سے بھیڑوں میں ’شیپ پاکس‘ کی بیماری جاری ہے، جس میں ہزاروں بھیڑیں مرچکی ہیں، محکمہ اینیمل ہسبنڈری کا کہنا ہے کہ بیس سال کے بعد اس نوعیت کی شدت نظر آئی ہے۔

ہرجی بھیل معذور ہیں۔ ان کے گذر بسر کا ذریعہ بھی بھیڑوں پر تھا، ان کی پچاس بھیڑیں مرچکی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس ویکیسن کرنے کوئی نہیں آیا جبکہ معاشی طور پر کمزور ہونے اور کم علمی کے باعث انھوں نے اپنے طور پر ویکسین نہیں کرائی۔

محکمہ اینیمل ہسبنڈری کا کہنا ہے کہ تھر میں قحط سالی کی وجہ سے جانوروں کے لیے وافر چارہ دستیاب نہیں ہے جس کے باعث ان کی قوت مدافعت میں کمی ہوگئی ہے اور وہ باآسانی بیماریوں کا شکار بن رہی ہیں۔

وٹرنری ڈاکٹر سریش کا کہنا ہے کہ ’شیپ پاکس‘ وائرل بیماری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کئی گاؤں میں اس کی ویکسین کی گئی لیکن وہ کارگر ثابت نہیں ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں