’میڈیا طالبان کو سیاسی مرتبہ دے رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مولانا عبدالعزیز اکثر ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ٹاک شوز میں نظر آتے ہیں

طالبان کو مذاکرات میں کامیابی ہو یا نہ ہو، بعض ماہرین متفق ہیں کہ حکومت کے کمزور موقف نے طالبان کو پاکستانی سیاست میں اخلاقی جواز فراہم کیا ہے اور مقامی میڈیا اسے مزید مستحکم بنانے میں مصروف ہے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان سے ملک میں انتہاپسندانہ سوچ میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا: ’نااہل میڈیا گذشتہ 15 دنوں سے جس طری مذاکرات کی کوریج کر رہا ہے اس سے طالبان کے موقف کو عوام میں تقویت ملی رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’حکومتی موقف کی عدم موجودگی کی وجہ سے طالبان موقف کے حامی یا برقعے میں لال مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے مولانا عبدالعزیز کو انتہاپسند سوچ پھیلانے کے لیے اب اشتہارات دینے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ مذاکرات کے آغاز کے بعد سے وہ یا ان کی تحریک کے لوگ اپنا پیغام مقامی ٹی وی ٹاک شوز کے ذریعے ہر روز لوگوں تک پہنچا رہے ہیں اور ٹی وی اینکر ان کو چیلنج کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’مولانا عبدالعزیز کو یہ اختیار میڈیا ہی نے دیا ہے کہ وہ ٹی وی پر بیٹھ کر آئینِ پاکستان ہاتھ میں اٹھا کر کہیں کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ یہ صحافتی اقدار کے تناظر میں قابلِ اعتراض ہے۔‘

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سربراہ عامر رانا نے کہا: ’چاہے مذاکرات کامیاب ہوں یا نہ ہوں، 50 ہزار سے زیادہ شہریوں کو قتل کرنے والے طالبان کی اخلاقی حیثیت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’طالبان کا نقطۂ نظر جو عام آدمی کی نظر سے پہلے اوجھل تھا، اب وہ پورے شد و مد کے ساتھ میڈیا پر آنا شروع ہو گیا ہے، یعنی ان کے نظریے کی مین سٹریمینگ ہونا شروع ہو گئی ہے جس سے ریاست کو لاحق سکیورٹی خدشات میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو گا۔‘

عامر رانا کے مطابق: ’پاکستانی میڈیا میں انتہاپسندی کے موضوع پر ویسے بھی تجربہ کار لوگوں کی کمی ہے اور ایسے میں جب بعض اینکر اپنے آپ کو اوپینیئن لیڈر (رجحان ساز) سمجھ کر مذاکرات پر سیاست کریں گے تو یہ امن کے لیے سود مند ثابت نہیں ہو گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے طالبان کو سیاسی مقام دینے کی غلطی کی اور میڈیا اسے عوام میں تقویت پہنچانے کی غلطی کر رہا ہے۔‘

طالبان نے اپنی مذاکراتی کمیٹی کے لیے دائیں بازو کی جماعتوں میں تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان، جمعیت علمائے اسلام ف کے مولانا فضل الرحمان، جمعیت علمائے اسلام س کے مولانا سمیع الحق، لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز، جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم اور مفتی کفایت اللہ کو اپنا ترجمان چنا تھا مگر عمران خان اور مولانا فضل الرحمان نے کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔

ڈاکٹر مہدی کے مطابق ان میں بیشتر سیاسی جماعتیں وہ ہیں جو نہ صرف طالبان کی ساتھی ہیں بلکہ طالبان بنانے میں انہوں نے پورا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بیرسٹر اعتزاز احسن کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ’یہ بالکل صحیح ہے کہ طالبان ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی ریاست اور دائیں بازو کی جماعتوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور جہاد کے نام پر طالبان منظر عام پر آئے، اس وقت بھی ان جماعتوں نے ڈالر کمائے اور آج بھی وہ کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان سے بات چیت کے ذریعے انہیں عوام میں پذیرائی مل جائے۔‘

عامر رانا کہتے ہیں کہ ’جماعت اسلامی کے بعض رہنما اور دیگر دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں وہ فرقہ وارانہ تنظیمیں ہیں جو اب دعوے کرتی ہیں کہ وہ غیر مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں، ان کی قربت مسلح جدوجہد کرنے والے تحریکِ طالبان کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے جس سے امن کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطرناک بات یہ ہے کہ بڑی تیزی سے لگ رہا ہے کہ طالبان کا نظریہ قبولِ عام ہونے کی طرف جا رہا ہے۔‘

تاہم ڈاکٹر مہدی حسن پرامید ہیں کہ اگر حکومت نے طالبان کو عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی تو چار فوجی آمروں کو بھگتانے والی پاکستانی عوام چپ نہیں بیٹھے گی۔

اسی بارے میں