پشاور کے مضافاتی علاقوں سے نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مذاکرات کے باوجود دہشت گردی میں کمی واقع نہیں ہو رہی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے میں گزشتہ روز مسلح شدت پسندوں کی طرف سے ایک ہی خاندان کے نو افراد کی ہلاکت اور علاقے میں جاری تشدد کے دیگر واقعات کے باعث مقامی اب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

طالبان مخالف تپہ مومند امن کمیٹی کے نائب سربراہ مکمل شاہ نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ پشاور کے مضافاتی علاقوں میں گزشتہ ایک مہینے سے جاری دہشت گردی کی کاروائیوں کی وجہ سے مقامی باشندوں نے مجبوراً محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقے باڑہ کے سرحد پر واقع مقامات سے پہلے ہی لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں تاہم اب بڈھ بیر کے علاقوں ماشو خیل اور ماشو گگر سے بھی مقامی افراد پشاور شہر اور دیگر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

مکمل شاہ کے مطابق گزشتہ ایک مہینے کے دوران بڈھ بیر کے علاقے میں بیس سے زائد افراد شدت پسندوں کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں جس کے بعد سے علاقے میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے امن کمیٹیوں کے ساتھ پہلے جیسا تعاون نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے تمام علاقے غیر محفوظ ہوگئے ہیں اور جس کا سب سے زیادہ فائدہ شدت پسندوں کو ہو رہا ہے۔

مکمل شاہ نے الزام لگایا کہ بیشتر واقعات میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں ہی ملوث رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر اور اطراف کے مقامات پر پچھلے چند ہفتوں سے تشدد کے واقعات تسلسل سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز ماشو خیل کے علاقے میں مسلح شدت پسندوں کی طرف سے ایک گھر پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک ہی خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے چند ہفتے قبل بڈھ بیر ہی کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک ضلعی رہنما میاں مشتاق کو مسلح افراد نے ساتھیوں سمیت ایک حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

کچھ دن پہلے اسی علاقے میں جماعت اسلامی کے ایک رہنما کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس میں چار افراد مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملے بھی ایک معمول بن چکا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پشاور کے سرحدی علاقے بڈھ بیر اور متنی قبائلی علاقے باڑہ اور درہ آدم خیل سے ملے ہوئے ہیں جہاں شام کے وقت حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

ان میں بعض علاقے بدستور پولیس کے لیے’نو گو ایریا‘ سمجھے جاتے ہیں۔

ان علاقوں میں اغواء برائے تاؤان اور ڈکیتی کے وارداتیں بھی عام ہیں تاہم حکومت کو ان مقامات میں اپنی عمل داری بحال کرنے میں کئی سالوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔

ان علاقوں میں طالبان کے خلاف سرگرم امن کمیٹیاں بھی قائم ہیں تاہم کچھ عرصہ سے حکومت کی طرف سے ان کے اختیارات کم کردیئے گئے ہیں ۔ امن کمیٹیوں پر عوام کی طرف سے اختیارات کا ناجائز استعمال کا الزام لگتا رہا ہے ۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ان واقعات ایسے وقت اضافہ ہورہا ہے جب حکومت اور طالبان کے درمیان مزاکراتی عمل کا باضابط آغاز ہوچکا ہے اور فریقین جنگ بندی پر بات چیت کررہے ہیں۔ تاہم تحریک طالبان کی طرف سے ان حملوں پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں