ایک لائق انسان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صبح سویرے منچھر جھیل دلکش منظر پیش کرتی ہے

وہ شہر میں سب سے پہلے داخل ہونے والا شخص ہوا کرتا تھا۔ اخبار والوں سے بھی پہلے، بھور سمے دودھ والوں کی گھوڑا گاڑیوں سے بھی پہلے۔ وہ صبح کے پہلے جھونکے کی طرح تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ رات ختم کر کے سویرا لانے والا شخص ہے۔

لائق تھیبو یا لائق سندھی، سندھی اخباری دنیا میں سائیں لائق کے نام سے یاد کرنے والا یہ عجیب انسان سندھی صحافت کا چلتا پھرتا سکول، اور سندھی زبان اور تاریخ کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا تھا۔ وہ واقعی ایک قصہ گو شخص تھا۔ کہانی در کہانی اور اندرونی کہانیاں جاننے والا شخص۔

میری صحافت کے اولین دنوں میں مجھے میرے دوست سہیل سانگی نے نصحیت کی تھی کہ جب تمہیں شہر میں کہیں بھی کوئی خبر نہ ملے تو سائیں لائق کے پاس چلے جانا۔ جب کہیں کو‏ئی خبر نہیں ہوتی سائیں لائق کے پاس تمہارے لیے ’ایکسکلوسیو‘ خبر ہوگی، ایک ’سکُوپ‘ ہوگا۔ اور ایسا ہی اکثر ہوا کرتا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ سائیں لائق کو‏ئي میری خبروں کا ذریعہ ہوا کرتا۔ خبریں تو بس بہانہ ہوا کرتا تھا۔ شروع شروع میں سائیں لائق کے ساتھ مل بیٹھنے کا، اس سے یاری گانٹھنے کا۔

وہ سندھ کا عاشق تھا۔ بلا کی جمالیاتی حِس کا دھنی۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ اکثر عاشق لوگ حُسن کے متوالے ہوتے ہیں لیکن کئی حسین لوگ سائیں لائق کے چاہنے والے اور متوالے ہوا کرتے۔ وہ بقول کلاسیکی سندھی گائکوں کے جی میں جادو جگا کر جانے والا شخص تھا۔ میں ایسے حسینوں کو سندھ کے قومی سوہنے کہتا جن کی نسلیں سائیں لائق کی چاہنے والی ہوا کرتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سندھ کے دامن میں نہ جانے کتنی کہانیاں بھری ہوئی ہیں

سر پر سندھی ٹوپی، ہاتھ میں پلاسٹک شاپر جن میں سندھی، اردو اور انگریزی کے اخبارات اور جرائد ہوا کرتے۔ اور گولڈ لیف سگریٹ دیپ سے دیپ جلے کے مصداق سلگایا کرتے۔ جیسے پروین بوبی سلگایا کرتی، یا جیسے بقول سندھی شاعر:

سگرٹ سے ہی دن جلے سگرٹ سے ہی رات دیا سلائی کا مشغلہ جیسے کوئی دیپ جلے یا جیسے کو‏ئی میرے اندر دھیرے دھیرے سلگ رہا ہو

میں سائیں لائق سے مذاق کرتا کہ گولڈ لیف کی ڈبیا پر چھپے ہوئے مارکے والے شخص کی جگہ پر تمہاری تصویر ہونی چاہیے تھی۔ میں ان سے یہ مذاق بھی کرتا کہ گولڈ لیف کی ڈبیا پر جو سنہری دوات میں دستخط ہیں وہ اللہ میاں کے دستخط لگتے ہیں۔ چین سموکر سائیں لائق سندھی گلے کے کینسر میں مر گئے۔ ان کے گلے میں کیسی کیسی کہانیاں گیتوں کی طرح آبشاروں کی صورت بہہ کر نکلا کرتی تھی۔ ایسا لگتا کہ سائیں لائق کی رگوں میں خون نہیں قلم کی سیاہی گردش کرتی ہے۔ کہانی در کہانی، اندرونی کہانیوں کی بھی کہانیاں۔

ایسا لگتا تھا وہ اخبار کےلیے خبریں اکٹھی نہ کر رہے ہوں، سندھ کی تاریخ کی مانگ ستاروں سے بھر رہے ہوں۔

سائیں لائق نے ٹنڈو بہاول اور شاہ بندر میں ہلاک کیے جانےوالے نوجوانوں کے قتلِ عام کی خود تحقیقات کی تھیں۔ میں ان کے ساتھ دونوں واقعات کے شکار افراد کے لواحقین سے ملنےگیا تھا۔

سائیں لائق سندھی اخبارات میں پروف ریڈر بھی تھے اور سندھی پرنٹ میڈیا میں زبان کی نوک پلک سنوارنے کا بیڑا بھی انھوں نے اٹھایا ہوا تھا۔ سندھی زبان کے ایک بھی غلط حرف یا املا پر ان کا کوئی سمجھوتہ نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا وہ اخبارات میں سندھی زبان کے الفاظ کے مسیحا ہیں، بے جان الفاظ ان کے سامنے بولنے لگتے تھے، روشن ہو جایا کرتے۔

وہ بتایا کرتے تھے کہ کس طرح بےنظیر بھٹو کے پہلے دورِ اقتدار تک لفظ سندھ کے انگریزی میں ہجے Sind ہوا کرتے تھے جو ان کے وزیر اعظم کو خط لکھنے کے بعد سرکاری طور درست ہجے Sindh لکھے جانے لگے۔

وہ بھی لاہور کے بابا نظام کی طرح سندھی و ملکی صحافت و حالات کے ریکارڈ کیپر تھے۔ کتنے ہی انقلابیوں کی دائی۔

وہ ٹنڈو جام ہائی اسکول میں استاد رہے اور پھر صحافت میں آئے۔ نوجوانوں کی نسلیں ان کی گرویدہ تھیں۔ وہ ون یونٹ توڑ تحریک اور سندھی زبان قومی زبان تحریک کا حصہ رہے تھے۔ ان کا تعلق ایسے گاؤں سے تھا جن سے گلابوں کی خوشبو آتی تھی۔

یہ الگ المیہ ہے کہ اب ایسے گاؤں سے گلابوں کی خوشبو میں خونِ ناحق کی بدبو بھی شامل ہوگئی ہے۔ یہ المیہ شاید سارے سندھ کا ہے۔ پورے ملک کا ہے۔

اسی بارے میں