’کراچی میں حملہ ہم نے کیا:‘ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس افسر کے مطابق متاثرہ بس میں 55 اہلکار سوار تھے جو کہ ڈیوٹی کے لیے بلاول ہاؤس جا رہے

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کراچی میں پولیس بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس حملے میں11 پولیس اہلکار ہلاک اور 45 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے: ’تحریک طالبان پاکستان کراچی میں رینجرز کی گاڑی پر ہونے والی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔‘

تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا یہ کارروائی اپنے ساتھیوں کے پولیس اور رینجرز کے ہاتھوں مارے جانے کے انتقام میں کی گئی ہے۔

طالبان کے ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی ہونے تک اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات شروع ہونے کے بعد طالبان ہر دہشت گردانہ کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے تھے۔

جمعرات کی صبح کراچی میں پولیس کی بس کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم 11 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ دھماکہ جمعرات کی صبح ملیر میں شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں واقع رزاق آباد پولیس تربیتی مرکز کے قریب ہوا ہے۔

کراچی پولیس شدت پسندی کا نشانہ: تصاویر

مقامی پولیس کے مطابق سندھ پولیس کے جوانوں کو لے جانے والی ایک بس اور اس کے ہمراہ چلنے والی موبائل حملے کا نشانہ بنی ہے۔

اس حملے میں مذکورہ بس تباہ ہوگئی جبکہ سڑک پر موجود دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ملیر کے ایس ایس پی راؤ انوار کے مطابق متاثرہ بس میں 55 اہلکار سوار تھے جو کہ ڈیوٹی کے لیے بلاول ہاؤس جا رہے تھے۔

ایس پی سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک سوزوکی پک اپ میں نصب کیا گیا تھا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ سے پتہ چلا ہے کہ ایک شخص سفید رنگ کی سورزوکی پک اپ سڑک کنارے کھڑی کر کے سامنے کی گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے اور جیسے ہی پولیس بس سامنے آتی ہے تو ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کر دیتا ہے۔

یاد رہے کہ ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی گاڑی کو بھی اس طرح بارود سے بھری سوزوکی سے اڑایا گیا تھا۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کے علاوہ امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو جناح ہسپتال منقل کر دیا گیا۔

جناح ہسپتال کے شعبۂ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے 11 اہلکاروں کی لاشیں مردہ خانے میں موجود ہیں جبکہ 53 زخمیوں کو بھی ہسپتال لایا گیا ہے جن میں سے بیشتر پولیس اہلکار ہیں۔

ان کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے کم از کم دس اہلکاروں کی حالت نازک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر اہلکاروں کے سر اور جسم کے اوپری حصے میں چوٹیں آئی ہیں۔

ادھر وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان بحال کرنا ایک مشکل اورگھمبیر معاملہ ہے۔

کراچی آمد کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی کے حالات گذشتہ چند ہفتوں میں مزید خراب ہوئے ہیں اور ان کی آمد کا بنیادی مقصد شہر کے ابتر حالات کا تجزیہ ان کا از سر نو جائزہ لینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ کراچی آپریشن کے ابتدائی تین ماہ میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں وہ دوبارہ حاصل ہو سکیں۔

خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ ایک سال میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں 160 سے زیادہ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے اور چند ماہ قبل شہر میں دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف آپریشن کے آغاز کے بعد سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں