یرغمالوں کو بازیاب کرانے والے خود اغوا

سرکاری اہل کاروں کو ان کی گاڑیوں سمیت اغوا کر لیا گیا تصویر کے کاپی رائٹ VMBP
Image caption گذشتہ روزکلِک اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سمیت کئی لیوز اہل کاروں کو تمپ کے علاقے سے اغوا کر لیا گیا تھا

بلوچستان سے گذشتہ روز اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں کرنے والے چھ افراد بھی اغوا کر لیے گئے ہیں۔

بلوچستان: ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کا اغوا

کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے محمد کاظم کے مطابق متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی سہ پہر تین بج کر دس منٹ پر پانچ سرکاری اور ایک قبائلی شخصیت کو تربت کے علاقے گومازی سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افراد کی بازیابی کے لیے جانے والے چھ افراد پر مشتمل اس قافلے میں اسسٹنٹ کمشنر دشت نعیم گچکی، نائب تحصیلدار بلیدہ رفیق احمد، تحصیلدار دشت کھڈان، احمد علی، نائب رسالدار لیویز فورس بشام بلوچ، سپاہی لیویز فورس جمیل احمد اور ایک قبائلی شخصیت شامل ہیں۔

یاد رہے گذشتہ روزاسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سمیت کئی لیوز اہل کاروں کو تمپ کے علاقے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ یہ لوگ گاڑیوں کے قافلے میں ایران کی سرحد سے لوٹ رہے تھے۔

لیویز حکام کے مطابق گذشتہ روز اغوا ہونے والے تمام لیوز اہل کاروں کو رہا کر دیا گیا لیکن ان کے ہمراہ اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کشمنر تاحال اغوا کاروں قبضے میں ہیں۔

اسی بارے میں