کراچی پولیس کو بکتر بندگاڑیوں کی فراہمی تاخیر کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سندھ حکومت نے پولیس پر حملوں اور جرائم میں اضافے کے سدباب کے لیے گذشتہ دنوں پانچ ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا

پاکستان کی صوبہ سند میں شدت پسندوں کا ہدف بننے والی کراچی پولیس اپنی حفاظت کے لیے جن بکتر بند گاڑیوں کا مطالبہ کر رہی ہے وہ کاغذی کارروائیوں، شفافیت کی کمی اور محکمانہ رسہ کشی کی وجہ سے خطرناک حد تک تاخیر کا شکار ہے۔

بی بی سی اردو کی تحقیق کے مطابق اس تاخیر کی بڑی وجہ محکموں کے درمیان جیسے اہم پہلوں پر ابہام ہے کہ نئی بکتر بند گاڑیاں کہاں سے اور کون سے ماڈل کی خریدی جائیں۔

سندھ پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان کی جانب سے شدید حملوں کے بعد تقریباً 40 نئی اور ماضی میں لی گئی بکتر بندگاڑیوں سے زیادہ مضبوط اور موثر بی سات طرز کی گاڑیاں کی ضرورت ہے۔

سندھ پولیس کے ڈی آئی جی (فنانس) کیپٹن طاہر نوید کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بی سات پلس گاڑیاں چاہیں جو یہاں (پاکستان) میں تیار ہی نہیں ہوتیں۔ وفاقی حکومت پیسے دے گی تو بات آگے بڑھے گی۔ بی چھ سے بات نہیں چلے گی۔‘

ایک اندازے کے مطابق سندھ پولیس کو تقریباً سوا ارب روپے چاہیے ہوں گے جو اسے وفاقی حکومت کی جانب سے رقم یا بکتر بند گاڑیاں خرید کر دینے کی صورت میں ملنے کی امید ہے۔ لیکن طاہر نوید کہتے ہیں کہ ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ابھی رقم کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔

سندھ پولیس کے مطابق اس وقت اطلاعات کے مطابق 30 کے قریب بکتربند گاڑیاں زیرِ استعمال ہیں۔ یہ سب بی چھ ساخت کی ہیں جو ہیوی مکینکل کمپلکس ٹیکسلا میں تیار کی گئی ہیں۔ لیکن خیال ہے کہ کراچی میں جس قسم کا اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے اس سے تحفظ فراہم نہیں کر رہی ہیں۔

سنہ 2012 میں یہ بکتر بند گاڑیاں کمزور سمجھ کر واپس ہیوی مکینکل کمپلکس بھیجی دی گئی تھیں لیکن وفاقی حکام کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مسئلہ بکتر بند گاڑیاں نہیں بلکہ سٹیل کی گولیاں تھیں جو بی چھ ماڈل روکنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی تھیں۔

شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر بڑے بور کے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جس سے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوط بکتر بند گاڑیوں کی ضرورت ہے۔ پولیس نے بکتر بند گاڑیوں کے علاوہ بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ بھی مانگے تھے۔

اسے وجہ بنا کر سندھ پولیس نے سربیا سے نئی بکتر بند گاڑیاں خریدنے کے لیے کچھ عرصہ قبل معاہدہ کیا تھا لیکن پھر اسے منسوخ کر دیا گیا۔ منسوخی کی وجہ سندھ پولیس کا وفاقی حکومت سے بیرونِ ملک خریداری کے لیے این او سی نہ لینا بتایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور بعض اخبارات نے بھی اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ملک میں بی چھ طرز کی بکتر بند گاڑیاں ہیوی مکینکل کمپلکس ٹیکسلا میں تیار ہو رہی ہیں اور یہاں سے مہیا کی جاسکتی ہیں۔ دفاعی پیداوار کے اہلکاروں کے مطابق ہیوی مکینکل کمپلکس میں بی سات طرز کی بکتر بند گاڑیاں بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

سندھ حکومت نے پولیس پر حملوں اور جرائم میں اضافے کے سدباب کے لیے گذشتہ دنوں پانچ ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد پولیس کو جدید اسلحے اور حفاظتی آلات سے مسلح کرنا ہے۔

بکتر بند گاڑییوں کی خریداری میں تاخیر کی بابت وزارتِ داخلہ کے ترجمان سے رابطے کی کوشش سودمند ثابت نہیں ہوئی ہے۔

ڈی آئی جی طاہر نوید کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے سروکار نہیں کہ گاڑی ایک روپے کی ہے یا دو ارب کی، انہیں ان کی ضرورت ہے، لہٰذا جتنی جلد ہوسکے انہیں دی جائیں:

’ہمیں تو چیز دے دیں، چاہے کوئی بھی دے دے۔ میڈیا سمیت ہر کوئی اس چکر میں ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ کوئی نہیں دیکھ رہا کہ بندے کتنے مر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں