’مذاکرات میں آئین سے باہر کچھ قبول نہیں‘

Image caption آئین کے مقدم رہنے کی بات صرف اپوزیشن تک محدود نہیں

پاکستان میں قیامِ امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے جسے سیاسی اور مذہبی حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم قیامِ امن کے لیے جہاں مذاکراتی کمیٹیاں حکومت اور طالبان دونوں سے جنگ بندی کی اپیل کر رہی ہیں وہیں پارلیمان میں موجود جماعتیں طالبان کی جانب سے آئینِ پاکستان کو نہ ماننے اور شریعت کے نفاذ کے مطالبات پر تشویش کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔

طالبان نے اگرچہ ابھی تک اپنی نمائندہ کمیٹی کے ذریعے ملک میں شریعت کے نفاذ کے لیے باقاعدہ طور پر کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا تاہم حال ہی میں بی بی سی اردو سے بات چیت میں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد برملا کہہ چکے ہیں کہ انھیں شریعت کے علاوہ کوئی اور قانون منظور ہوتا تو وہ جنگ ہی نہ کرتے۔

یہی نہیں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے ایک رکن مولانا عبدالعزیز مذاکرات سے یہ کہہ کر الگ ہوئے کہ شریعت کا نکتہ شامل کیے بغیر وہ بات چیت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پاکستان کے ایوانِ بالا کے اجلاس میں بھی طالبان کے شریعت کے نفاذ اور آئین کو تسلیم نہ کرنے کے بیانات زیرِ بحث آئے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی سابقہ حکمراں جماعت اے این پی کے رکن اور سینیٹر حاجی عدیل کہتے ہیں کہ ’ہم نے سوات معاہدہ پاکستان کے آئین کے تحت کیا تھا اور طالبان نے اس وقت حکومتی رٹ بھی تسلیم کی تھی اب حکومت ہمیں اعتماد میں لے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آٹھ ماہ ہوگئے حکومت نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ہم کہتے ہیں کہ چاہیں تو پارلیمنٹ کا بند کمرہ اجلاس بلوا لیں اسے یہ سب باتیں بتائیں۔ یہ چھپانے والی باتیں نہیں۔‘

حاجی عدیل نے یہ بھی کہا وہ مذاکرات کے حق میں تو ہیں لیکن حکومتی کمیٹی کی تشکیل پر انھیں تحفظات ہیں:’ان میں سب کے سب دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا کوئی نہیں، کوئی سیکیولر نہیں اور نہ ہی کوئی قوم پرست ہے۔‘

کچھ ایسی ہی بات اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور قانونی ماہر چوہدری اعتزاز احسن نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان ہی طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں اور انہیں یہ بیل منڈے چڑھتے نظر نہیں آتی۔

اعتزاز کہتے ہیں کہ ’حکومت کا کوئی ایجنڈا نہیں لیکن طالبان اپنے ایجنڈے میں واضح ہیں۔‘ ان کے مطابق ’مذاکرات آئین اور جمہوریت کو مقدم رکھتے ہوئے ہی ہو سکتے ہیں۔‘

آئین کے مقدم رہنے کی بات صرف اپوزیشن تک محدود نہیں اور حکومت کے اپنے اتحادی بھی واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ 1973 کے آئین کے باہر کچھ بھی قبول نہیں ہوگا۔

نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو نے کہا کہ ’ہم حکومت کا حصہ ہیں لیکن واضح کر دیں کہ جو اس آئین سے آگے جائے گا چاہے وہ حکومت ہی کیوں نہ ہو ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔‘

پاکستان کے ایوان میں موجودہ صرف روشن خیال سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ مذہبی سیاسی جماعتیں بھی آئین کے دفاع میں آواز بلند کر رہی ہیں۔

وفاق میں حکومت میں شریک جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان (ف) کے رہنما سینیٹر غفور حیدری کہتے ہیں کہ ’شریعت کا مطالبہ تو ہم بھی کرتے ہیں لیکن اگر طالبان آئین کو نہیں مانیں گے تو پھر مذاکرات ہو ہی نہیں سکتے۔ پاکستان کا 80 فیصد آئین اسلامی ہے۔‘

حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج پرتشدد کاروائیوں کو روکنا ہے لیکن اگر ’جنگ بندی‘ ہو جاتی ہے تو سوال پھر وہی اٹھے گا کہ طالبان کے لیے پاکستان کا آئین کس قدر قابل قبول ہے؟

اسی بارے میں