بلوچستان میں اجتماعی قبر سے ملنے والی لاشوں کی تدفین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجتماعی قبر سے لاشیں ملنے کا واقعہ گذشتہ ہفتے خضدار کے علاقے توتک میں پیش آیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے خضدار سے گزشتہ ماہ اجتماعی قبر سے جو لاشیں ملی تھیں ان میں سے 11 ناقابل شناخت لاشوں کو مقامی انتظامیہ نے خضدار شہر کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔

خضدار انتظامیہ کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ شناخت نہ ہونے کے باعث 11 لاشیں سول ہسپتال میں پڑی تھیں۔

اہل کار کے مطابق چونکہ ہسپتال میں ان لاشوں کو رکھنے کے لیے مناسب انتظام نہیں تھا جس کے باعث انتظامیہ کی جانب سے اس عدالتی ٹریبونل کے جج کو ان لاشوں کی تدفین کے لیے ایک درخواست دی گئی۔

اہل کار نے مذید بتایا کہ یہ ٹریبونل صوبائی حکومت کی جانب سے اجتماعی قبر اور وہاں سے برآمد ہونے والی لاشوں کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ٹریبونل کی جانب سے درخواست منظور ہونے کے بعد ان لاشوں کی تد فین کردی گئی۔

اہل کار کے مطابق ان لاشوں کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت کے لیے نمونے حاصل کر لیےگئے ہیں۔ ان لاشوں کو خضدار کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان میں سے صرف دو افراد کی لاشوں کی شناخت ہوئی تھی۔

جن لاشوں کی شناخت ہوئی تھی ان کا تعلق شورش سے متاثرہ ضلع آواران سے تھا۔ شناخت ہونے والی لاشوں کو ان کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا تھا ۔

اجتماعی قبر سے لاشیں ملنے کا واقعہ گذشتہ ہفتے خضدار کے علاقے توتک میں پیش آیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس جگہ سے دو اور پھر مزید 11 لاشیں برآمد کی گئیں جو سب کی سب ناقابلِ شناخت تھیں۔

حکام کے مطابق جو لاشیں اٹھائی گئیں انھیں قتل کرنے کے بعد ان پر چونا ڈال دیا گیا تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

اس اجتماعی قبر کے بارے میں قائم ٹریبونل نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ٹریبونل کے جج نے چند روز بیشتر خضدار کے علاقت توتک میں اس مقام کا بھی معائنہ کیا تھا جہاں اجتماعی قبر ملی تھی۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے ٹریبونل کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں حالات سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں زیادہ خراب ہوئے تھے اور ان میں شدت اس وقت آئی جب ایک مبینہ فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے صوبے میں مزاحمتی تحریک جاری ہے اور پرتشدد واقعات معمول بن گئے ہیں جن میں لوگوں کا لاپتہ ہونا اور اس کے بعد ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نمایاں ہیں۔

اسی بارے میں