صحافیوں کو اپنا فرض ادا کرنے دیا جائے: صحافتی تنظیمیں

Image caption گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین میڈیا ہاؤسز پر حملے کیے گئے ہیں

صحافتی تنظیموں نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تین میڈیا ہاؤسز پر کریکر حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت، سیاسی، مذہبی اور لسانی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ صحافیوں کو ان کا فرض ادا کرنے دیا جائے۔

صحافتی تنظیموں کا کہنا تھا کہ صحافی فریق نہیں ہوتے بلکہ صرف حقائق بیان کرتے ہیں۔

کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے منگل کی شام علیحدہ علیحدہ مظاہرے کیے گئے۔

اس موقعے پر کے یو جے کے صدر جی ایم جمالی کا کہنا تھا کہ گذشتہ 12 سالوں سے صحافیوں کا احتجاج جاری ہے، وہ حکمرانوں کو یہ باور کراتے رہے ہیں کہ وہ اپنی ذمے داریاں سنبھالیں اور ان واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیاں کریں، لیکن انہیں اس ملک میں بہنے والے خون سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

’حکومت نے مذاکرات کی رٹ لگائی ہوئی ہے، لیکن ہمیں ان سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم صرف میڈیا ہاؤسز اور پاکستان کے کونے کونے میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں، ہمیں موت کا ڈر نہیں، ہم کیمرے کی آنکھ سے ان کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔‘

پریس کلب کے سیکریٹری جنرل عامر لطیف کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک ایس ایم ایس تیار کر رکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ، گورنر اور وزیراعظم نے حملے کا نوٹس لے لیا لیکن نوٹس پر نوٹس لیے جا رہے ہیں اور حملے پر حملے ہوتے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں بھی شاید یہ چاہتی ہیں کہ کوئی تو ہے جو میڈیا سے ہمارا بدلہ لے رہا ہے، اسی لیے مذمت کا بیان دیا جاتا ہے اور اس کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے۔

دوسری جانب سائیٹ ایریا میں واقع اے آر وائی نیٹ ورک کی پارکنگ سے منگل کو ایک مشکوک موٹر سائیکل سے بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مواد کے ساتھ ڈیٹونیٹر نہیں تھا جس کی وجہ سے دھماکہ نہیں ہوا۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنی نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے، اس سے پہلے گذشتہ شب آج ٹی وی پر کریکر پھینکاگیا تھا جس میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی طرح نوائے وقت گروپ کے دفتر پر بھی کریکر پھینکا گیا جو پھٹ نہیں سکا تھا، اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اسے ناکارہ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیسی ساخت کے اس کریکر میں بارود کے علاوہ چھرے استعمال کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں