’مسٹر مشرف آپ کھڑے ہو جائیں!‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پرویز مشرف کو سکیورٹی کے حصار میں واپس بُلٹ پروف گاڑی میں بٹھایا گیا

سابق فوجی صدر پرویز مشرف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے سامنے منگل کو پیش ہو ہی گئے۔

پرویز مشرف اس مقدمے کی 22ویں سماعت پر عدالت میں پیش ہوئے اور وہ بھی اس وجہ سے چونکہ اُن کی وکلا ٹیم میں شامل انور منصور عدالت کو گُذشتہ سماعت کے دوران یہ یقین دہانی کروا چکے تھے کہ اگلی سماعت پر اُن کے موکل پیش ہوں گے۔

نیلی قمیض اور سفید شلوار میں ملبوس سابق آرمی چیف پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوئے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اُن کا سانس پھولا ہوا ہے اس لیے اُنہوں نے کچھ دیر کسی سے بات نہیں کی۔ مشرف کی آمد پر اُن کی وکلا ٹیم میں شامل افراد اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے تالیاں بھی بجائیں۔

اسی دوران خصوصی عدالت کے جج بھی کمرۂ عدالت میں اپنی سیٹوں پر آئے گئے اور اُن کی ’باڈی لینگوج‘ یہ بتا رہی تھی کہ اُنھوں نے پرویز مشرف کو دیکھ لیا ہے لیکن اس کے باوجود اُنھوں نے پرویز مشرف کے وکیل انور منصور سے استفسار کیا کہ اُن کے موکل کہاں ہے جس پر اُنہوں نے پرویز مشرف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ وہ بیٹھے ہیں۔‘

بینچ کے سربراہ نے پرویز مشرف سے کہا کہ ’مسٹر مشرف آپ کھڑے ہو جائیں،‘ جس پر سابق فوجی صدر اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور عدالت کو سلیوٹ کیا۔

کچھ دیر تک سابق آرمی چیف جب اپنی نشست پر کھڑے رہے تو اُن کی وکلا ٹیم میں شامل احمد رضا قصوری نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ اُن کے موکل بیمار ہیں اس لیے اُنھیں بیٹھنے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے پرویز مشرف کو کرسی پر بیٹھنے کی اجازت دے دی۔

سماعت کے دوران پرویز مشرف کی چہرے پر اضطراب کی کیفیت نمایاں تھی اور اگر اُن کے وکلا کی ٹیم میں شامل کوئی وکیل اُن کے سامنے آ جاتا تو وہ اُسے پیچھے ہٹنے کا کہہ دیتے تاکہ عدالتی کارروائی دیکھ سکیں۔

عدالت نے جب اُن کے وکلا کے موقف کو تسلیم کیا کہ پہلے عدالتی دائرہ سماعت اور ججوں کے متعصب ہونے کا فیصلہ کرے اور پھر فرد جُرم عائد کی جائے تب جا کر سابق صدر کے چہرے پر سکون کے آثار نظر آئے۔

اس مقدمے میں پرویز مشرف کے ضامن میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے اور اُنھوں نے چند صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے آرمی چیف کے دور میں جو جونیئر افسر تھے وہ اب اعلیٰ رینک پر پہنچ چکے ہیں اور راشد قریشی کے بقول ان افسران نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اُن کے سابق باس کے کیسے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے پر فوج میں بظاہر کوئی بغاوت تو نہیں ہوگی لیکن فوج کی اعلیٰ قیادت کو تحفظات ضرور ہیں۔

موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی پرویز مشرف کی ہسپتال میں عیادت سے متعلق راشد قریشی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے جنرل راحیل شریف کو تو وہاں نہیں دیکھا لیکن اُن کے طرف سے بھجوایا گیا گلدستہ ضرور دیکھا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی عدالت میں آمد سے قبل بم ڈسپوزل سکواڈ کے عملے نے نہ صرف وکلا کے بیگ چیک کیے بلکہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے ججوں کی کرسیوں کو بھی چیک کیا گیا۔

مشرف کی عدالت میں موجودگی تک کسی پولیس اہلکار کو بھی کمرۂ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں تھی اور سابق صدر کی سکیورٹی کی ذمہ داری رینجرز کے حوالے کی گئی تھی۔

اس مقدمے کی سماعت کے بعد پرویز مشرف کو سکیورٹی کے حصار میں واپس بُلٹ پروف گاڑی میں بٹھایا گیا اور عدالت میں موجود افراد کو اُس وقت تک باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جب پرویز مشرف راولپنڈی کے فوجی ہسپتال کی جانب روانہ نہیں ہوگئے۔

اسی بارے میں