سراج الحق کی خواہش: خواتین کے الگ تعلیمی ادارے اور اسمبلی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ملک میں مخلوط تعلیم سے کئی قسم کے مسائل جنم لے رہے ہیں‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر اور جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سراج الحق نے خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران خواتین کے لیے الگ اسمبلی کی تشکیل اور صوبے میں مخلوط تعلیم کی بجائے خواتین کےلیے علیحدہ تعلیم کی خواہش کا اظہار کردیا ہے۔

منگل کو خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس جب شروع ہوا تو پیپلزپارٹی سے خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی نے تحریک التوا پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ پشاور یونیورسٹی میں اساتذہ کی طرف سے طالبات کو ہراساں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے طالبات کو تعلیم کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے مستقبل تاریک کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کو اس سلسلے میں فوری طورپر اقدامات کرنے چاہیے تاکہ طالبات کے مستقبل کو بچایا جاسکے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف سردار مہتاب عباسی نےکہا کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طالبات کو ہراساں کرنے کا وجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود کو ان مسائل سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی بلکہ ایسے واقعات کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

اس موقع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر سراج الحق نے ایوان کو بتایا کہ اسمبلی رولز 71 (ب ) کے تحت جب تک کسی رکن کے پاس ثبوت نہ ہو اس وقت تک کسی تحریک التوا کو قائمہ کمیٹی کو نہیں بھیجا جاسکتا۔

انہوں نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ ملک میں مخلوط تعلیم سے کئی قسم کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ لڑکیوں کےلیے علیحدہ تعلیم کے ساتھ ساتھ خواتین اراکین اسمبلی کےلیے بھی علیحدہ اسمبلی ہو تاکہ وہاں وہ ہر مسئلے پر کھل کر اظہار خیال کرسکے۔

بعد میں ڈپٹی سپیکر نے پشاور یونیورسٹی میں طالبہ کو ہراساں کرنے کی تحقیقات کےلیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر اعلیٰ کے مشیرمشتاق غنی، صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان، خواتین اراکین اسمبلی نگہت اورکزئی، انیسہ زیب، عظمیٰ خان، ثوبیہ شاہد اور راشدہ رفعت شامل ہیں۔

اسی بارے میں