مذاکرات نہ ہوئے تو ’تشدد کے واقعات‘ بڑھ سکتے ہیں: طالبان رابطہ کار

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption حکومتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منگل کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا جس میں مذاکرات جاری رکھنے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا

طالبان کی طرف سے نامزدہ کردہ کمیٹی کے رکنیوسف شاہ نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے اور ساتھ ہی انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مذاکرات نہ ہوئے تو ملک میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ حکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ مذاکرات ’معطل‘ ہو گئے ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کے لیے حکومت اور طالبان کی طرف سے نامزدہ کردہ کمیٹیوں کے درمیان پیدا ہونے والے تعطل پر فریقین کی طرف سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

حکومتی کمیٹی کے رکنرحیم اللہ یوسفزئی نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، کہا ہے کہ دونوں کمیٹیوں کے درمیان غیر رسمی رابطے قائم ہیں اور جلد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے بقول کراچی میں پولیس اور رینجرز پر دو حملوں اور مہمند ایجنسی میں 23 اہل کاروں کو قتل کرنے پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ امن کے لیے دھچکہ ہے لیکن ان واقعات کے باوجود وہ مایوس نہیں ہیں اور چاہتے ہیں مذاکرات جاری رہیں۔

دوسری طرف بی بی سی کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے طالبان کمیٹی کے رابطہ کاریوسف شاہ نے کہا کہ حکومتی کمیٹی مذاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ انھوں نے کہا: ’جنگ بندی کے بارے میں جو اعلان کیا تھا طالبان اس پر قائم ہیں لیکن اعلان تب ہوگا اور تمام معاملات تب حل ہوں گے جب ہم مل کر بیٹھیں گے۔‘

حکومتی کمیٹی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ ہم سے ملنے کے خواہش مند نہیں تو ہم بھی اس کی خواہش اور شوق نہیں رکھتے۔‘

دہشت گردی کی وارداتوں پر یوسف شاہ نے کہا کہ ’واقعات‘ تو ہوتے رہتے ہیں اور اگر حکومت اور طالبان کمیٹی اس طرح ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں تو واقعات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار جنگ بندی کا اعلان ہوگیا تو میرا خیال نہیں کہ پورے ملک میں ایسا کوئی واقعہ پیش آئے گا۔

رحیم اللہ نے کہا کہ حکومت کی بنائی ہوئی مذاکراتی کمیٹی برقرار ہے اور مشاورت اور غیر رسمی رابطے جاری رکھے جائیں گے۔

مہمند ایجنسی کے طالبان گروپ کی کاروائی پر بات کرتے ہوئے طالبان کی کمیٹی کے رابطہ کار یوسف شاہ نے بتایا کہ طالبان کی سیاسی شوری کے چیئرمین قاری شکیل تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے نائب امیر بھی ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ منگل کو انھوں نے باقی گروپوں سے بات کی ہے ایک دو کے علاوہ باقی تمام گروپوں نے اتفاق کیا ہے کہ جو فیصلہ تحریک طالبان نے کیا وہ سب اس کے پابند ہوں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان نے ایف سی اہلکاروں کو ردعمل میں مارا ہے۔

کیا حکومتی کمیٹی نے طالبان اور ان کی قائم کردہ کمیٹی تک اپنی شرائط اور مطالبے پہنچائے ہیں؟ اس کے جواب میں رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی تک یہ شرائط پہنچائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی ٹیم پر کوئی الزام نہیں لیکن فیصلے طالبان کی شوری کرتی ہے۔

رحیم اللہ نے کہا کہ مہمند ایجنسی کی طالبان کی شاخ کے سربراہ عمر خراسانی کی جانب سے ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوی کیا گیا لیکن ہم وضاحت جب مانگیں گے تو جواب اور وضاحت طالبان شوری ہی دے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہو گی کہ کوئی راستہ نکل آئے تاکہ پھر سے بات چیت شروع ہو۔

قبل ازیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے قائم کردہ چار رکنی کمیٹی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ امن مذاکرات کے لیے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی نمائندہ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کرنے سے قاصر ہے۔

حکومتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منگل کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا جس میں مذاکرات جاری رکھنے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ : ’قیامِ امن کی سنجیدہ کوششوں کی کامیابی کا تمام تر انحصار پر تشدد کارروائیوں کے خاتمے پر ہے۔‘

حکومت کی قائم کردہ امن کمیٹی نے تحریکِ طالبان پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر مشروط طور پر بلا تاخیر پر تشدد کارروائیاں بند کردیں۔

کمیٹی نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ طالبان کی کارروائیاں رکنے تک مذاکراتی عمل آگے بڑھانے سے قاصر ہے۔

سرکاری مذاکراتی کمیٹی نے اجلاس اور پھر وزیراعظم سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کمیٹی تمام صورتِ حال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ’قیام امن کی سنجیدہ کوششوں کی کامیابی کا تمام تر انحصار پرتشدد کارروائیوں کے مکمل خاتمے پر ہے۔‘

کمیٹی کے اراکین نے وزیراعظم کو 17 روزہ مذاکراتی عمل کی تفصیلات بتائیں اور اس دوران پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع سے آگاہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کمیٹی کی جانب سے حوصلہ شکن رد عمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا ہے کہ اب صورتِ حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے:

’طالبان کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کی بندش اور موثر عمل درآمد کے اعلان کے بغیر یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے سے قاصر ہے۔‘

وزیراعظم سے ملاقات میں حکومتی کمیٹی کا موقف تھا کہ مہمند میں ہونے والی خون ریزی کی وجہ سے کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ طالبان کی کمیٹی سے طے شدہ اجلاس بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کمیٹی کے اراکین کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ کمیٹی کے ارکان آپس میں مشاورتی عمل اور حکومت کی رہنمائی جاری رکھیں۔

اتوار کی رات طالبان کے ایک ذیلی گروہ تحریکِ طالبان مہمند کی جانب سے 23 ایف سی اہلکاروں کے قتل کے دعوے کے بعد پیر کو حکومتی اور طالبان کی نمائندہ مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔

حکومتی کمیٹی نے سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ایسے وقت میں طالبان کی نمائندہ کمیٹی سے ملاقات کو نامناسب قرار دیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس واقعے کی مذمت کی اور پاکستانی فوج نے بھی اسے اشتعال انگیر اقدام قرار دیا۔

ادھر طالبان کی کمیٹی کے رابطہ کار یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے تقریباً تمام گروپ کالعدم تحریک طالبان کے پابند ہیں اور جنگ بندی پر آمادہ ہیں۔

پیر کی صبح نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ طالبان نے مولانا سمیع الحق کو اختیار دیا ہے کہ ’وہ جہاں چاہیں جس طرح چاہیں کوئی بھی فیصلہ کریں۔‘

ان کے مطابق طالبان کی سیاسی شوریٰ نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نھیں اگر حکومتی کمیٹی ملنا چاہتی ہے تو ملے ۔ مولانا یوسف شاہ نے مزید کہا کہ کوشش ہے کہ جو اکا دکا گروپ جنگ بندی کے حق میں نہیں انھیں بھی اس پر آمادہ کیا جائے۔

ادھر پیر کی شب سکیورٹی فورسز پر ایک اور حملہ ہوا ہے اور سکیورٹی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں