کیلاشیوں کو طالبان کی دھمکیوں کا ازخود نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیلاش کا چلم جوش تہوار دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی میں آتے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پاکستان کے سیاحتی مقام چترال کے کیلاشی قبیلے اور اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو طالبان کی جانب سے دھمکیوں کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

جمعرات کو اس نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملکی آئین کسی کو زبردستی اور اسلحے کے زور پر مذہب تبدیل کروانے کی اجازت نہیں دیتا۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی غیر مسلم پر زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور مذہبی رسومات سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا نہ مذہبی اور نہ ہی قانونی طور پر جائز ہے۔

تصدق جیلانی کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے مذہبی حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور ایسا نہ کر کے حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ مقامی میڈیا اور کیلاش کمیونٹی کی طرف سے سپریم کورٹ کو لکھے جانے والے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی طرف سے چترال میں رہائش پذیر کیلاشیوں اور اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو دھمکیاں مل رہی ہیں کہ وہ مسلمان ہو جائیں ورنہ اُنہیں اور اُن کے اہلِ خانہ کو قتل کر دیا جائے گا۔

سماعت کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل لطیف یوسف زئی نے عدالت کو بتایا کہ ان افراد کو سرحد پار افغانستان کے علاقے نورستان سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور مقامی سطح پر ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا مقامی سطح پر اس کے سدباب کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں اور کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے ہیں تو لطیف یوسفزئی اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے جبکہ انتہاپسند چاہتے ہیں کہ لوگ اُن کی مرضی کا دین اپنائیں جو کہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کیلاش اور اسماعیلی کمیونٹی کو مذہب تبدیل نہ کرنے پر مرنے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی ہے جو آئین کی روح کے خلاف ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کے نوٹس میں لے کر آئیں اور عدالت کو بتائیں کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک اس ضمن میں کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل سے بھی کہا کہ وہ صوبائی حکومت سے اس معاملے کی جامع رپورٹ لے کر آئندہ ہفتے عدالت میں جمع کروائیں۔

خیال رہے کہ دو فروری کو طالبان کے میڈیا ونگ کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی جس میں کیلاش قبیلے کے افراد کو زبردستی اسلام قبول کرنے کا کہا گیا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انھیں مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

اسی بارے میں