شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے: 15 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ میر علی میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی چند ہفتوں میں دوسری کارروائی ہے

پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق گزشتہ رات اور جمعرات کی صبح شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں دو مختلف کارروائیوں میں پندرہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

فوجی ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے لے کر اب تک قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف دو کاروائیاں ہوئی ہیں جن میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹرز کا استعمال ہوا۔

پہلی کارروائی میر علی میں کی گئی جس میں 15 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ دوسری کارروائی خیبر ایجسنی کی تحصیل باڑہ میں کی گئی جہاں گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعےشدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

عسکری حکام کے مطابق اس کاروائی میں 13 فروری کو پشاور سینما پر ہونے والے حملے اور 18 فروری کو پشاور میں ہی میجر جہانزیب پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم باڑہ میں ہونے والی اس کاروائی میں کتنے شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا عسکری حکام نے اس کی تفصیل نھیں بتائی۔

عسکری حکام نے مقامی میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی تردید کی بھی کہ میر علی میں جیٹ طیاروں سے ہونے والی کاروائی میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو چکی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہونے والی فضائی بمباری میں جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

15 شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں جبکہ بڑی مقدار میں گولہ بارود اور اسلحہ بھی تباہ کیا گیا ہے۔ذرائع نے ہلاک ہونے والی غیرملکیوں کی قومیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

میر علی کے مقامی لوگوں نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ رات 11 بج کر 50 منٹ پر جنگی طیاروں نے میر علی کے مضافات میں خوشالی، حسو خیل اور حیدر خیل کے مقام پر بم پھینکے ہیں۔

مقامی آبادی کے مطابق یہ کارروائی 40 منٹ تک جاری رہی اور اس دوران سات مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم عسکری ذرائع کے برعکس مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ایک مقامی شخص نے بتایا کہ یہ علاقے ایسے ہیں کہ یہاں عام لوگ کم ہی جاتے ہیں اور اس وجہ سے بھی نقصانات کا علم نہیں ہو رہا تاہم ابھی ایسے شواہد نہیں ملے کہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کارروائی 40 منٹ تک جاری رہی اور اس دوران سات مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

نامہ نگار کے مطابق اس کارروائی سے مقامی لوگوں میں بھی سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ لوگ اس علاقے سے دوسرے محفوظ مقامات کی جانب جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ادھر عسکری ذرائع کے مطابق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں بھی ان شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے جو پشاور میں سینیما میں دھماکے اور ایف آر پشاور میں پاکستانی فوج کے میجر کی ہلاکت میں ملوث تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں یہ ٹھکانے اور بم بنانے کی فیکٹریاں تباہ ہوئی ہیں جبکہ کچھ شدت پسندوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

یاد رہے کہ قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی میں ملک کے اس دور افتادہ علاقے سے آزادانہ ذرائع سےمعلومات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو سرکاری اور طالبان کی طرف سے کیے جانے والے دعوؤں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

یہ میر علی میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی دو ماہ میں دوسری کارروائی ہے۔

اس سے قبل 20 جنوری کو پاکستانی فوج کے ذرائع نے اسی علاقے میں جیٹ طیاروں کی کارروائی میں تین جرمن شہریوں سمیت 40 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ایف سی کے 23 اہلکاروں کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیاں حملے روکنے اور جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں