فوج کی صلاحیت پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے: راحیل شریف

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption طالبان نے چند دن قبل فرنٹیئر کور کے 23 مغوی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو درپیش کسی اندرونی اور بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے فوج کی صلاحیت کے بارے میں کس کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

جنرل راحیل شریف نے یہ بیان جمعہ کو صوبہ خیبر پختوانخوا میں فرنٹیئر کور کے ہیڈ کواٹر کے دورے کے دوران کہی۔

چیف آف آرمی سٹاف نے جوانوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کے حوصلوں کو سراہا اور کہا کہ پوری قوم ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے میں ان کی قربانیوں کی تعریف کرتی ہے۔ انھوں نے فرنٹیئر کور کے جوانوں کو یقین دلایا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں گنواتے ہوئے فوج کے سربراہ نے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم اور ہمت کی داد دی جنہوں نے مقامی آبادیوں کی مدد سے کئی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ فوج مستقبل میں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

فرنٹیئر کور کے ہیڈ کواٹر پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل خالد ربانی اور فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل غیور محمود نے جنرل راحیل شریف کا استقبال کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے ملک میں اس بارے میں ایک بحث جاری تھی کہ پاکستان کی فوج دہشت گردوں کے خلاف کس قدر موثر ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بحث تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس بیان سے شروع ہوئی جس میں انھوں نے وزیر اعظم سے اپنی ایک ملاقات کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس ملاقات میں انھیں بتایا گیا تھا کہ طالبان کے خلاف فوج آپریشن کی کامیابی کے امکانات صرف چالیس فیصد ہیں۔

اس بیان کے بعد عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور حکومتی ارکان کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ عمران خان وزیر اعظم نواز شریف کی بات صحیح طور پر سمجھ نہیں سکے تھے۔

دریں اثنا پاکستان کے فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جمعہ کو کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

جمعرات کو میر علی میں کی جانے والی کارروائی کے بارے میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں تیس سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سولہ ازبک باشندے بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ خیبر ایجنسی کی باڑہ تحصیل میں کارروائی کے دوران دو خود کش حملہ آووروں سمیت سات دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ان دہشت گردوں میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل تھا۔

جنرل راحیل شریف کے بیان میں جن الفاظ کا استعمال کیا گیا ان الفاظ کا استعمال سیاسی رہنما اور بلخصوص موجودہ حکمرانوں کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں نہیں کیا جاتا۔

مثال کے طور پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومت کمیٹی کے ایک بیان میں دہشت گردی کے لیے امن کے منافی کارروائیوں کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں