کراچی: ٹی ٹی پی کے اراکین جسمانی ریمانڈ پر سی آئی ڈی کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملزمان سے ایک فلاحی ادارے کے زیرِاستعمال ہائی روف گاڑی بھی برآمد کی گئی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تحریک طالبان کے تین اراکین کو 28 فروری تک جسمانی ریمانڈ پر سی آئی ڈی پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

سی آئی ڈی پولیس نے عمر فاروق، سعید ایوب اور ہمایوں کو غیر معمولی حفاظتی انتظامات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

پولیس نے ملزمان سے مزید تفتیش کی استدعا کی جو عدالت نے قبول کر لی۔

عمر فاروق، سعید ایوب اور ہمایوں کو سی آئی ڈی پولیس نے گذشتہ شب ماڑی پور کے علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ ایس پی مظہر مشوانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان کا تعلق تحریکِ طالبان ولی الرحمان گروپ سے ہے۔

ملزمان سے ایک فلاحی ادارے کے زیرِاستعمال ہائی روف گاڑی بھی برآمد کی گئی ہے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ گاڑی میں 100 کلو گرام دھماکہ خیز مواد سی این جی سلینڈر کے ساتھ نصب کیا گیا تھا جس کے ساتھ بال بیئرنگ بھی موجود تھے۔

ایس پی مظہر مشوانی کا دعویٰ ہے کہ ملزمان ایس ایچ او موچکو شفیق تنولی پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس سے پہلے انسپکٹر شفیق تنولی پر جیل روڈ پر خودکش بم حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔ گذشتہ سال ان کی گاڑی پر ہاکس بے کے قریب بم حملہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی میں چند ماہ سے دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں پولیس اور رینجرز دونوں حصہ لے رہے ہیں۔ اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے شہر میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں